احتساب عدالت پشاور نے اپر کوہستان سکینڈل میں گرفتار مرکزی ملزم سات اور اس کی اہلیہ کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔ گزشتہ روس جب ملزمان کو احتساب جج حامد مغل کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی سپیشل پراسیکیوٹر نیب حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ملزم قیصر اقبال سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اپر کوہستان میں دو ہزار تیراہ تک ہیڈ کلرک تھا، ملزم اس سکینڈل کی جعل سازی میں ماسٹر مائنڈ تھا، ملزم نے جعلی چیکس اور دستاویزات بنائے اور پھر اس کے ذریعے قومی خزانے سے پیسے نکالے اور غیر قانونی طریقے سے 37 بلین روپے غبن کیے،ملزم نے اپنی اہلیہ مسما گ اور دیگر بے نامی داروں کے نام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنائے، ملزم کے گھر کی تلاشی پر سونا، بیرونی ممالک کی کرنسی، لگژری گاڑیاں برآمد ہوئیں جن کی مالیت چودہ بلین روپے ہے ملزمان نے دوران تحقیقات تفتیش میں تعاون بھی نہیں کیا لہذا ملزمان سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے لہذا14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم قیصر اقبال کو سات دن جبکہ اہلیہ کو چار کی جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔







