کابل اور قندھار میں دہشتگردوں کے متعدد مرکز تباہ

پاکستان نے قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی کرتے ہوئے کابل میں فتنہ الخوارج کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے قندھار اور کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی کی، شہری آبادی سے الگ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب اور کامیابی سے تباہ کیا گیا۔پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے حملے کو مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا ہے، پاک فوج کی سخت اور شدید جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج افغان طالبان کے جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود عزم و حوصلے کے ساتھ دفاع وطن میں مصروف ہے، شکست خوردہ افغان طالبان بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔افغان طالبان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پوسٹ شیئر کرکے جھوٹ پھیلانے کی ناکام کوشش کی، ویڈیو میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ٹی 55 ٹینک پاکستانی فوج سے چھینا گیا ہے، روسی ساختہ ٹی 55 ٹینک حقیقت میں افغان طالبان کے زیر استعمال ہے۔پاک فوج نے نوشکی سیکٹر میں افغانستان کو بھرپور جواب دیتے ہوئے غزنالی پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔پاک فوج نے افغان طالبان فورسز کی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کی، جاری فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغانستان کی حدود میں 3 کلومیٹر اندر واقع غزنالی پوسٹ تباہ کی گئی۔افغان طالبان فوجی جوابی حملے میں غزنالی پوسٹ اور اسلحہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔12/11 اکتوبر کے درمیانی رات فوج کی موثر کارروائیوں سے اب تک سرحد پار طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں، پاک فوج نے 21 افغان طالبان پوسٹیں عارضی طور پر قبضے میں لیں جب کہ دہشتگردوں کے کئی تربیتی کیمپ ناکارہ بنائے۔انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور ان کے معاون دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، پاک فوج کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق افغان طالبان رجیم کی درخواست پر دونوں کی باہمی رضامندی سے عارضی طور پر سیز فائر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق سیز فائر کا فیصلہ بدھ کو شام 6 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کیلئے عارضی طور پر کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق اس دوران دونوں اطراف تعمیری بات چیت کے ذریعے اس پیچیدہ مگر قابل حل مسئلے کا مثبت حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتن الہندوستان اور فتن الخوارج کی جانب سے اشتعال انگیزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے کرم سیکٹر میں افغان طالبان کے حملے کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ افغان طالبان کو ان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ہے۔جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی سالمیت کا بہر صورت دفاع کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کے لیے استعمال ہونا انتہائی قابل مذمت ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed