پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی 90 ووٹ لیکر نئے وزیراعلی خیبر پختونخوا منتخب ہو گئے،اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ کیا اوروزیراعلی خیبرپختونخوا کے انتخاب کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کو سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت شروع ہوا، علی امین گنڈاپور ایوان میں پہنچے تو حکومتی اراکین نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا، سہیل آفریدی کو 90 ایم پی ایز نے منتخب کیا۔سپیکر نے نئے وزیراعلی کے انتخاب کے عمل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی، غیر حاضر اراکین واپس آجائیں، اندر جو اسمبلی میں ہیں انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں، اراکین اسمبلی لابی کے گیٹ پر موجود رجسٹر میں اپنے ناموں کا اندراج کریں۔سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کو پیشگی مبارک باد دیتا ہوں، ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، وزیر اعلی کی حیثیت سے جو اقدامات کئے وہ سب ریکارڈ پر ہیں، حکومت اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ مضبوط ہو۔انہوں نے کہا ہے کہ جب ہم آئے تو صرف پندرہ دن کی تنخواہیں تھیں، اپوزیشن کو فنڈز نہ دینے کا گلہ ضرور ہو گا لیکن میں نے آپ کے حلقوں کو فنڈز دیئے، بانی پی ٹی آئی کئی بار کہہ چکے کہ پاکستان کیلئے اپنی ذات کو پیچھے رکھتا ہوں۔علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، ہماری جدوجہد پاکستان اور صوبے کے عوام کیلئے جاری رہے گی، اللہ نے شاید مجھے سرخرو کرنے کیلئے اس جگہ پر کھڑا کیا ہو، وفاداری اورعزت پر خود کو ثابت کرلیں تو دنیا میں اہم مقام حاصل کرلیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی آج قوم کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ہم بانی کے ساتھ ڈٹ کرکھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کا استعفی تاحال منظور نہیں ہوا، ایک وزیر اعلی کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیر اعلی کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو بلایا ہے تاکہ جو ابہام ہے وہ دور ہو جائے، ہمارے دوستوں کو اتنی کیا جلدی ہے، ان کے پاس نمبرز پورے ہیں تو کیوں اس معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں، یہ عمل غیر قانونی ہے ہم اس غیر قانونی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔اپوزیشن لیڈر عباد اللہ کی تقریر کے دوران اسمبلی کی گیلری سے شور شرابہ ہونے پر سپیکر بابر سلیم سواتی نے گیلری میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ لوگ خاموش نہیں ہوں گے تو میں اجلاس کی کارروائی رکوا کر آپ لوگوں کو باہر نکالنے پر مجبور ہوں گا۔ ایک انٹرویو میں پوزیشن لیڈر خیبرپختونختوا اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن آج( منگل کو) وزیراعلی کے انتخاب کے خلاف عدالت جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو کل تک سمجھ رہے تھے کہ استعفی منظور ہوا، اس لیے امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے۔ ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلی کا انتخاب غیرآئینی ہے، ان کے وکیل کہہ رہے ہیں یہ ٹھیک ہے، ہم کہہ رہے ہیں یہ غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ استعفی منظور ہو گیا اس لئے امیدوار لائے۔ سپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے بعد کہا کہ علی امین گنڈا پور نے دو بار استعفی گورنر کو بھیجا اور آج ایوان میں بھی استعفے کا اعلان کیا، چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلی نہ بنیں لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا، آئین کے مطابق چلیں گے۔بابر سلیم سواتی نے اس حوالے سے رولنگ پڑھتے ہوئے کہا کہ نئے قائد ایوان کا طریقہ کار آئین کے مطابق ہوگا جس کے بعد منتخب وزیر اعلی کے نام کا اعلان ہو گا۔ گورنر کا اقدام مکمل طور پر غیر آئینی ہے، میں رولنگ دیتا ہوں، سہیل خان کو پارٹی کے چیئرمین نے نامزد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت استعفی دیا، 8 اور پھر 11 اکتوبر کو علی امین نے دو استفے گورنر کو بھیج دیئے،







