جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں نور عالم خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی کس نے دیے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ دریا کبھی اپنی زمین نہیں چھوڑتا، دریا کے اطراف ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔نور عالم خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعد اب سندھ میں تباہی آنے والی ہے تاہم وزرا ایوان میں باتوں میں مصروف ہیں کسی کو احساس نہیں، خیبر پختونخوا کی پی ڈی ایم اے 12 لوگوں کو نہیں بچا سکی۔انہوں نے کہا کہ اراکین قومی اسمبلی کی سنتا کون ہے؟ خیبر پختونخوا میں یہ اپوزیشن والے حکومت میں ہیں۔انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کے سیکٹرز میں دیکھ لیں کہ گھروں کے آگے کیسے تجاوزات قائم کی گئیں، اصل چور وہ ہیں جنہوں نے این او سی دیے ہیں، مجھے حیرانی ہے کہ وزیر یہاں موجود ہوتے ہیں مگر نوٹس کون لے رہا ہے۔نور عالم خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا وزیر کہاں ہے؟، وزیر پارلیمانی امور کہاں نوٹس لے رہا ہے، واٹر اینڈ پاور کا وزیر کہاں ہے؟ وہ یہاں نقشے پیش کریںکہاں کہاں این او سی دئیے۔رہنما جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی دینے والوں نے اربوں روپے کمائے اور بیرون ملک شہریت لیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ بھارت کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔







