کمانڈنٹ ایف سی ڈی آئی جی صفوت غیور شہید,بہادری کی ناقابلِ فراموش علامت

یومِ شہداء پولیس (4 اگست) کے موقع پر خیبر پختونخوا کے عظیم سپوت، کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) ڈی آئی جی صفوت غیور شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ صفوت غیور اُن دلیر افسران میں شامل تھے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا کہ ریاست کے محافظ کبھی خوف زدہ نہیں ہوتے۔

4 اگست 2010 کو صفوت غیور شہید کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔ دہشت گردوں نے خودکش حملے کے ذریعے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ اُن کی بہادری اور عوام سے قریبی رابطہ اُن کی شخصیت کا خاصا تھا۔ وہ اکثر بغیر پروٹوکول، عام لوگوں کے درمیان موجود رہتے تھے۔

ڈی آئی جی صفوت غیور کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 15ویں کامن سے تھا۔ وہ ذہانت، فرض شناسی اور جرات مندی میں اپنی مثال آپ تھے۔ بطور کمانڈنٹ ایف سی، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس کو نہ صرف منظم کیا بلکہ کئی بڑے آپریشنز کی قیادت بھی خود کی۔ ان کے ماتحت افسران انہیں “میدان کا سپاہی” کہا کرتے تھے۔

یومِ شہداء کے موقع پر ایف سی ہیڈکوارٹرز اور پشاور میں اُن کے مزار پر تقاریب منعقد کی گئیں، جہاں پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اُن کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور اُن کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد دہرایا گیا۔

صفوت غیور شہید کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ وہ ہمیں یہ سبق دے گئے کہ وطن کی حفاظت کے لیے اگر جان بھی دینی پڑے، تو وہ ایک اعزاز ہے، قربانی نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed