افغان مہاجرین پالیسی کیخلاف دائردرخواست پر وفاق کو نوٹس

پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان کے شہری سے شادی کرنیوالی خاتون کے شوہر کی پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی )کے اجرا کے لیے اور افغان مہاجرین کے انخلا کے لیے بنائی گئی پالیسی کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور نادرا کو نوٹس جاری کردیا اور اگلی سماعت پر فریقین سے جواب طلب کرلیا ، درخواست پر سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس اورنگزیب خان نے کی اس موقع پر درخواست گزار مسما ر کے وکیل اجمل خان مہمند ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکلہ کا تعلق مردان تخت بائی سے ہے اور اسکی شادی افغانستان کے شہری طارق خان سے ہوئی ہے جس کے چار بچے ہیں ، اب حکومت درخواست گزارہ کا شوہر افغانستان ڈی پورٹ کرنا چاہتا ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈر مہاجرین کے لیے بنائی گئی انخلا کی پالیسی بھی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے کیونکہ انخلا کے لیے پالیسی تو بنائی گئی ہے لیکن اس کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے کیونکہ یہاں افغان مہاجرین کے کاروبار ، شادیاں اور اثاثے بھی ہیں جس کو ختم کرنے کے لیے موجودہ پالیسی میں کوئی خاص طریقہ کار وضع نہیں ہے ، درخواست گزارہ کا شوہر کو اگر زبردستی ڈی پورٹ کیا گیا تو اس سے درخواست گزارہ شوہر اور بچے اپنے والد کے سایے سے محروم ہو جائیں گے لہذا عدالت فریقین کو درخواست گزارہ کے شوہر کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کا حکم دیں اور ساتھ ہی انخلا کے پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا جائے عدالت نے درخواست پر ابتدائی دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی حکومت اور نادرا کو نوٹس جاری کردیا اور دونوں فریقین سے اگلی پیشی پر جواب طلب کرلیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed