15 اکتوبر کا احتجاج ملتوی کرنا عمران خان سے ملاقات سے مشروط

پاکستان تحریک انصاف نے 15 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج منسوخ کرنا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے مشروط کردیا۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طویل مشاورت کے بعد ختم ہو گیا، اجلاس کی صدارت سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کی۔پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ دوران اجلاس پارٹی کے بعض اراکین نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے باعث احتجاج ملتوی کرنے کی تجویز دی جبکہ شہباز گل اور خالد خورشید سمیت دیگر اراکین نے احتجاج ملتوی کرنے کی مخالفت کی۔کور کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی حکومت کی سوچی سمجھی سازش ہے۔پی ٹی آئی کور کمیٹی نے 15 اکتوبر کا احتجاج ملتوی کرنا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت بارے پریشانی لاحق ہے۔کور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ 14 اکتوبر تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی صورت میں احتجاج ملتوی کر دیں گے،ڈاکٹر، وکیل یا کسی بھی پارٹی رہنما کی بانی سے ملاقات کرا دی گئی تو احتجاج ملتوی کر دیا جائے گا، ملاقات نہ کرائی گئی تو 15 اکتوبر کو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں ، متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا نمبر ون مطالبہ ہے کہ یہ کریک ڈاون بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا خصوصی کمیٹی کے ذریعے سب کو انگیج کرنا جمہوری طریقہ ہے، لیکن زور زبردستی سے قانونسازی ہرگز قبول نہیں ہے۔اس سے قبل اسد قیصر نے الزام عائد کیا تھا کہ آئینی ترامیم منظور کروانے کیلئے ان کے اراکین قومی اسمبلی کو 20، 20 کروڑ کی پیشکش کی گئی ہے۔سابق اسپیکر کا کہنا تھا کہ ہم ان کو عدلیہ پر حملہ نہیں کرنے دیں گے، اس حوالے سے تمام بار ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 15 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کی کال کے بعد راولپنڈی پولیس نے 7 کارکنوں کو حراست میں لے لیا جبکہ رات بھر مختلف رہنمائوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن قیادت روپوش ہوگئی۔تفصیل کے مطابق پولیس نے گزشتہ رات پی ٹی آئی رہنماراجہ بشارت، سابق ایم پی اے وحید قاسم، عارف عباسی، راشد حفیظ کے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران پولیس نے 7 کارکنوں کو حراست میں لیلیا۔ترجمان پولیس کے مطابق راولپنڈی میں دفعہ 144نافذ ہے، احتجاج یا ریلی کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ شنگھائی اجلاس کی وجہ سے راولپنڈی میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔پولیس نے پی ٹی آئی کے سابق امیدوار قومی اسمبلی شہریار ریاض کے گھر بھی چھاپہ مارا لیکن شہریار ریاض گھر پر نا ہونے کے باعث گرفتار نہ ہوسگے۔دوسری جانب اٹک میں اعلی اعلی افسران نے کے پی کے داخلی راستوں کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر موٹروے ایم ون پرڈی پی او کی افسران کوبریفنگ بھی دی گئی۔جی ٹی روڈ اور دیگر انٹری پوائنٹس کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس دوران کٹی پہاڑی حسن ابدال سب سے زیادہ اہم قرار دی گئی۔ علاوہ ازیں موٹروے پرہرو پل کا بھی جائزہ لیا گیا۔لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے نمٹنے کی پلاننگ کی گئی جبکہ ذرائع کے مطابق آج کسی وقت بھی پلاننگ پرعملدرآمد کیاجاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed