پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی ایم قومی جرگے کیخلاف درخواست کی سماعت ملتوی

شعیب جمیل

پشاورہائیکورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)پر پابندی عائد کرنے کیخلاف دائر رٹ پر درخواست گزار کے وکلاکو کیس کے قابل سماعت ہونے پرتیاری کیلئے مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس ضمن میں عدالت کو یہ دلائل دیئے جائیں کہ آیا اس مرحلے میں یہ رٹ قابل سماعت ہے یا نہیں جبکہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر مذکورہ کالعدم پارٹی کے رہنمائوں کو پابندی عائد کرنے کی وجوہات فراہم کرے تاکہ آئندہ پیشی پر اس پر دلائل دیئے جاسکیں۔جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے کالعدم پی ٹی ایم کے رکن معصوم شاہ کی رٹ پر سماعت کی۔ دوران سماعت انکے وکیل عطااللہ کنڈی نے عدالت کو بتایاکہ وفاقی حکومت نے یکم اکتوبر کو پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قراردیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی ہے اور یہ پابندی انسداددہشتگردی 1997کے ایکٹ کے تحت عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کوبتایاکہ مذکورہ پارٹی 2014سے مختلف سرگرمیاں کررہی ہے اور ابھی تک ان کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہونے کا کوئی جواز یا ثبوت نہیں ہیں تاہم گیارہ اکتوبر کو وہ گرینڈ پختون جرگہ منعقد کرنے جارہی تھی اور وفاقی حکومت نے اس کو سبوتاژ کرنے کیلئے یہ اقدام اٹھایا ہے ۔ اس دوران جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ براہ راست اس عدالت میں رٹ دائر کرسکتے ہیں جس پر وکیل عطا اللہ کنڈی نے بتایاکہ اس ضمن میں متعدد بار اعلی عدالتیں قراردے چکی ہیں کہ اگر مناسب فورم دستیاب نہ ہو تو ہائیکورٹ میں براہ راست رٹ دائر ہوسکتی ہے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنااللہ کا موقف تھا اس مرحلے پر یہ رٹ دائر نہیں کرسکتے اس کیلئے فورم موجود ہے جس پر جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیاکہ آپ ہمیں اس پر دلائل دیں کہ کیا یہ رٹ قابل سماعت ہے اور جس نے یہ رٹ دائر کی ہے اس کی لوکس سٹینڈیڈائی کیا ہے ؟جس پر عطااللہ کنڈی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزار پی ٹی ایم کے رکن ہیں اورانکی پوری تنظیم کالعدم قراردی گئی ہے اس لیے انکے صدر منظور پشتین یہاں پر نہیں آسکتے۔ قانون کے تحت حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس تنظیم کے ارکان کیخلاف بھی کارروائی کرسکتی ہے دوران سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کہا کہ آپ ہمیں بتادیں کہ اس میں عدالت کیا کرسکتی ہے کیونکہ اس حوالے سے وفاقی حکومت کے پاس اپیل کرنی پڑتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed