پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کو صوابدیدی فنڈز کے استعمال سے روک دیا

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بلاک /امبریلا سکیمز شامل کرنے کیخلاف اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی جانب سے داردرخواست پر صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کو صوابدیدی فنڈز کے استعمال سے روک دیا اور صوبائی حکومت سے تین روز میں جواب طلب کرلیا ۔کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ درخواست خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرڈاکٹر عباد، ارکان صوبائی اسمبلی ارباب محمدوسیم،احمد کنڈی ،ارباب محمد عثمان، کرامت اللہ خان، احسان اللہ خان، محمد اقبال خان سمیت دیگر 19ارکان اسمبلی نے سلطان محمد خان اور بابر خان یوسفزی ایڈوکیٹس کی وساطت سے دار کی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کہ درخواست گزار خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن ارکان ہیں اور وہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے 2024کے عام انتخابات میں تقریبا 3کروڑ ووٹ حاصل کیے ہیں انہوں نے عدالت کو بتایا گیا کہ جون 2024میں صوبائی حکومت نے بجٹ پیش کیا اورسالانہ ترقیاتی پروگرام کی بھی منظوری دی گئی تاہم اے ڈی پی میں بعض بلاک اور امبریلا سکیمز اور ترقیاتی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں جو سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے حوالے سے سپریم کورٹ اورپشاور ہائیکورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں ۔فاضل بنچ نے وزیراعلی کو صوابدید فنڈز استعمال کرنے سے روکتے ہوئے صوبائی حکومت کو تین روز میں جواب جمع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگاتے تھے لیکن دوہرا معیار رکھا ہے اور یہ کہ پی ٹی آئی حکومت نے قومی اسمبلی میں بھی ہمیں فنڈ نہیں دیئے تھے اور اب صوبائی حکومت بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز کو فنڈز دینے سے گریزاں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اپوزیشن۔ ایم پی ایز کو فنڈز کی عدم ادائیگی پر کیس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انکے ہمراہ ن لیگ کے ایم پی اے ملک طارق اعوان اور سابق صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان بھی موجود تھے ڈاکٹر عباداللہ نے مزید کہا کہ صوبے کے فنڈز پر تمام اراکین اسمبلی کا برابر حق وزیراعلی نے فنڈز اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، اپنے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے فنڈ فراہم کئے جاتے ہیں چنانچہ ہم صوابدیدی فنڈز کے خلاف عدالت آگئے اور عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا اے ڈی پی میں اس کو بلاک ایلوکیشن کہا جاتا ہے اے ڈی پی میں بلاک فنڈز وزیر اعلی اپنے مرضی سے استعمال کرتا ہے جبکہ صوابدیدی فنڈز کے استعمال پر عدالت نے سٹے دے دیا ہے، اب یہ فنڈ استعمال نہیں ہوسکے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed