شعیب جمیل
پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کی قیمت میں 400 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ہول سیل مارکیٹ میں مکس آٹے کا 20 کلو تھیلا 2 ہزار روپے جبکہ فائن آٹے کا 20 کلو کا تھیلا ہول سیل مارکیٹ میں 2200 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ آٹا ڈیلرز کا کہنا ہے کہ گندم اسٹاک ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ برقرار ہے، واضح رہے ایک ہفتہ قبل مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 16 سو روپے تھی۔ دوسری جانب پشاور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ٹماٹر آلو اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے مہنگائی کے ستائے عوام کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔نئے مالی سال کے پہلے ہی ہفتے میں سیمنٹ کی 50 کلو بوری کی قیمت میں 207 روپے تک کا اضافہ کردیا گیا جس کے بعد سیمنٹ کی بوری کی قیمت 1500 روپے تک پہنچ گئی،نئے مالی سال کے پہلے ہی ہفتے میں وفاقی بجٹ کیاثرات آنا شروع ہوگئے ہیں،سیمنٹ کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کردیا گیا۔وفاقی بجٹ میں سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں صرف ایک روپے اضافہ کیا گیا تھا، حکومت نے سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی فی کلو 3 روپے سے بڑھاکر 4 روپے کی تھی، جس کی کسر عوام سے نکالی جارہی ہے۔نئی مالی سال کے پہلے ہی ہفتے میں سیمنٹ کی 50 کلو بوری کی قیمت میں 207 روپے تک اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد سیمنٹ کی بوری کی نئی قیمت 1500 روپے تک پہنچ گئی، جب کہ لاہور اور پشاور میں دیگر شہروں کے مقابلے میں سیمنٹ کی قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق ایک ہفتے میں لاڑکانہ میں سیمنٹ کی 50 کلو بوری 207 روپے تک مہنگی ہوئی، پشاور 177، بنوں 163، کوئٹہ اور سرگودھا 160، اور ملتان میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں 155 روپے کا اضافہ کیا گیا۔دستاویز کے مطابق کراچی اورلاہور میں سیمنٹ کی بوری 150 روپے مہنگی ہوئی، اسلام آباد 151، گوجرانوالہ 147 ،فیصل آباد 140 ،سیالکوٹ 130 ،حیدر آباد 120 اور راولپنڈی میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں 107 روپے کا اضافہ کیا گیا۔اس کے علاوہ، حالیہ ہفتے کے دوران خضدار میں سیمنٹ کی بوری 23 روپے تک مہنگی ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ سیمنٹ کی قیمتیں بڑھنے سے تعمیراتی شعبے کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا، سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گھروں اور فلیٹس کی تعمیراتی لاگت مزید بڑھ جائے گی۔بجلی کے بلوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا، آئے روز بجلی مہنگی ہونے سے بل آمدن سے زیادہ ہوگئے ہیں، شہریوں نے حکومتی طفل تسلیاں مسترد کرتے ہوئے بجلی سستی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔بنیادی ٹیرف میں مسلسل اضافوں سے بجلی کا بنیادی ٹیرف اوسط 35.50روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے جبکہ اس پر سرچارجز نے قیمتوں کو دو گنا کر دیا ہے۔ عام صارف کا کم از کم 10 سے 20 ہزار روپے بل آ رہا ہے۔بجلی کے بنیادی ٹیرف کے علاوہ 18 فیصد جی ایس ٹی، 3.41 روپے فنانس سرچارج، سہ ماہی ایڈجسمنٹ کی مد میں 3.32 روپے اور رواں ماہ کی فیول پرائس ایڈجسمنٹ کی مد میں 3.32 روپے بھی ادا کرنے ہوتے ہیں جبکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جی ایس ٹی اور پی ٹی وی فیس 35روپے بھی وصول کی جاتی ہے







