شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے حالیہ مردم شماری میں خیبر پختونخوا کے قومی اسمبلی کی نشستیں کم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سیکرٹری فنانس سمیت دیگر حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی درخواست گزار محمد اجمل ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی کو ڈیجیٹل مردم شماری میں کم شمار کیا گیا ہے۔ مردم شماری میں آبادی کم ظاہر کرنے سے صوبے کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑے گااور اس سے ترقیاتی فنڈز سمیت دیگر سہولیات میں بھی کمی آئے گی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نگران وزیر اعلی کی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت غیر آئینی ہے جبکہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر کرائے جائیں۔ اورجن اضلاع میں سالانہ گروتھ 2.55 سے کم ظاہر کی گئی ہے وہاں دوبارہ مردم شماری کرائے جائے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حالیہ مردم شماری کے بعد خیبر پختون خوا کے چھ قومی اسمبلی نشتوں کو کم کیا گیا ہے حلقہ بندیوں کا طریقہ کار بھی درست نہیں حالیہ مردم شماری کے بعد خیبر پختون خوا کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بھی کم ملے گا اور دہشت گردی کے متاثرہ اس صوبے کے وسائل مزید کم ہونگے جو کہ سراسر زیادتی ہے عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی پیشی پر جواب طلب کرلیا







