ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ گلوبل سا ئوتھ سے تعلق رکھنے والے ممالک عالمی سیاست اور مالیات کے مغربی قیادت والے ماڈل سے دور ہونے کے لیے تیزی سے بے تاب ہیں جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا پر حاوی ہے۔ جوہانسبرگ جنوبی افریقہ میں گزشتہ ہفتے کی برکس سربراہی کانفرنس اس رجحان کا تازہ ترین نکتہ ہے۔ یاد رہے کہ برکس کو چھ ممالک برازیل، روس، چین اور بھارت کی طرف سے2006 میںتشکیل دیا گیا جس میں جنوبی افریقہ نے 2010میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ نئے رکن ممالک میں سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ارجنٹائن اور ایتھوپیا شامل ہیں۔ اس حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ برکس عالمی سطح پر گلوبل سا ئوتھ کے مفادات کی بہتر نمائندگی کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کا ایک مضبوط اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے چند ترقی پذیر ممالک نے مغرب کے مقابلے میں روسی معیشت سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں شروع کردی ہیں جو کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ترقی کے لیے اہم اشیا کا عالمی سپلائر ہے اور اسے عالمی معاملات میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ روس کو الگ تھلگ کرنے کے اقدامات نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے مغربی غلبہ والے عالمی اداروں کا متبادل تلاش کرنے کے منصوبوں کو تیز کردیاہے۔ تازہ ترین برکس سربراہی اجلاس میں مبینہ طور پر ڈالر کی کمی اور برکس کی مزید توسیع کلیدی ایجنڈا تھا۔اگرچہ پاکستان نے مبینہ طور پر ابھی تک برکس میں شامل ہونے کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی ہے لیکن ایسا کرنا سب سے زیادہ منطقی قدم ہو گا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ گزشتہ دہائی میں ہمارے خارجہ تعلقات کس طرح بدلے ہیں اور یہ سب سے زیادہ فائدہ مند بھی ہے۔ یاد رہے کے سی پیک کے آغاز کے بعد سے چین نے ہمارے سب سے اہم غیر ملکی شراکت دار کے طور پر امریکہ کی جگہ لے لی ہے جو خطے اور دنیا دونوں میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کہ مغرب کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا ہمارے مفادات کے لیے اہم رہے گا۔ اقتصادی اور سیاسی کشش ثقل میں امریکہ سے دوری اور چین کی طرف جھکائو کے پیش نظر ہمارے خارجہ تعلقات کو درست کرنا ایک سمجھدار اقدام ہونا چاہیے۔ برکس میں شمولیت جس میں کچھ لوگوں کے مطابق، چین اہم قوت ہے نہ صرف چینیوں کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنے میں مدد دے گا بلکہ علاقائی اور عالمی معاملات میں پاکستان کو مضبوط آواز بھی دے گا۔ ادھر سارک، جنوبی ایشیا کا اہم علاقائی بلاک، بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں سے معذور ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے گزشتہ سارک سربراہی اجلاس میں اپنی شرکت منسوخ کر دی تھی۔ تاہم چین کی ممکنہ کانٹر ویٹ کے طور پر موجودگی کی وجہ سے بھارت برکس میں اپنا وزن اتنی آسانی سے نہیں ڈال سکے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں مہنگائی سے لے کر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے تک کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ گلوبل سا ئوتھ کے بہت سے ممالک ایسے ہی چیلنجز کا شکار ہیں اور نہ ہی ہم خود ان مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ اس لئے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک اجتماعی نقطہ نظر کے تحت ترقی پذیر دنیا کی اقوام کو یکجا کرنا ہو گا اور یہ ان ممالک کے مسائل کا قابل عمل حل تلاش کرنے کے لیے اہم ہوگا۔ md.daud78@gmail.com







