جھیل سیف الملوک کا وجود برساتی نالوں سے آنے والے ملبے کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال ناران آنے والے لاکھوں سیاح صرف ایشیا کی خوبصورت ترین جھیل سیف الملوک دیکھنے آتے ہیں جس کے برفانی نظارے اپریل سے اگست تک مسلسل بدلتے رہتے ہیں تاہم تیز بارشوں کے ذریعے آنے والے پہاڑی ملبے کی وجہ سے جھیل کا قطر تیزی سے کم ہو رہا ہے۔







