ملک میںملیریا سے نمٹنے اور گنجان آبادیوں کو اس بیماری سے بچانے کے لیے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ سال آنے والے سیلاب کے نتیجے میں مچھروں کی افزائش نسل کے لئے فضا ساز گار ہے جبکہ امسال مزید پانی جمع ہو نے کے نتیجے میں بھی کیس سامنے آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ ہر سال 25 اپریل کو ملیریا کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد ملیریا کے اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور اس بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ امسال اس دن کا عنوان ”ملیریا کے خلاف لکیر کھینچیں” تھا جو ملیریا پر قابو پانے کے اقدامات کو تیز کرنے اور ملیریا کے خاتمے کے مقصد کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔پاکستان میں بدقسمتی سے حالیہ خبروں نے ایک پریشان کن رجحان کو اجاگر کیا ہے جس کے مطابق ملک میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ موسمیات تبدیلی کو قرار دیا جارہا ہے ۔ ماہرین طب کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ملیریامیں کافی تال میل نظر آتا ہے جبکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور امسال ہونے والی مزید بارشیں مچھروں کے لیے افزائش کے مثالی حالات پیدا کر سکتی ہیں جو ملیریا پھیلانے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پچھلے سال سیلاب کے باعث اب کیسز میں چار گنا اضافہ ہو ا ہے اور اب یہ کیسز 1.6 ملین تک پہنچ گئے ہیں ۔ اس صورتحال نے اس جان لیوا بیماری کے خلاف مدافعت کو کم کر دیا ہے اور کمزور ممالک میں بیماری کی شدت کے ساتھ سائنسی کامیابیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ یہ وبا تباہ کن صورت حال الہ کار طور پر کام کرتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی صحت عامہ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں جہاں پر صحت عامہ پر بہت کم پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجوہات اور آب و ہوا سے چلنے والی آفات کے صحت پر فوری اثرات دونوں کو حل کرنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس لئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملیریا کا مقابلہ کرنے اور پاکستان میں کمزور آبادی کو اس بیماری سے بچانے کے لیے، ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ اس میں ملیریا سے بچا ئواور کنٹرول کے اقدامات میں سرمایہ کاری میں اضافہ شامل ہے مچھر مار دوا کے چھڑکائو کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات اور موثر علاج تک بہتر رسائی اور حکومت کو متاثرہ افراد کو سستی ویکسین کی خریداری اور فراہمی میں بھی متحرک ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے مستقبل میں ملیریا اور موسمی اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلا کو روکنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ اس لئے ملیریا کا عالمی دن منانے کے بعد آئیے ملیریا کے خلاف لکیر کھینچیں اور اس قابل علاج بیماری کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا عہد کریں۔ حکومت کیساتھ ساتھ یہ پوری قومی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات کریں اور پانی کے گڑہوں کو مٹی سے بھر دیا جائے یا پھر اس میں مٹی کے تیل کا چھڑائو کیا جائے تاکہ اس میں مچھر وں کی افزائش نسل نہ ہو سکے۔ ادھر بچوں واہل خانہ کو ملیریا جیسی مہلک بیماری سے بچانے کے لئے مچھر بھگائو لوشن و دیگر ادویات کے استعمال کی بھی ضرورت ہے ۔علاوہ ازیں ملک بھر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی شہروں و بازاروں سمیت گنجان آباد علاقوں میں خصوصی مہم چلانے کی بھی چلائی جائے تاکہ شہریوں کو اس مہلک وباء سے بچایا جاسکے۔ md.daud78@gmail.com







