تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی و منشیات فروشی

ملک بھر کے تعلیمی اداروںمیں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال کی وجہ سے تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس نے معاشرے میں سنسنی پھیلا دی ہے خصوصی طور پر اشرفیہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے بگڑ ے ہوئے رئیسوں نے نامی گرامی تعلیمی اداروں کا ماحول خراب کر رکھا ہے جس کا سد باب کیلئے متعلقہ اداروں جن میں ایجوکیش ریگولیڑی اتھارٹی اور ہائیر ایجو کیشن کمیشن جیسے ذمہ دار اداروںکو اپنا کر ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں بگڑتے ہوئے تعلیمی ماحول اور اس میں سرعیت کرنے والی بے راہ روی کا اندازہ تعلیم یافتہ اشرافیہ میں نوجوانوں میں پروان چڑھنے والی غنڈہ گردی اور تشدد کے ایک حالیہ واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں لاہور کے ایک پرائیویٹ ایلیٹ سکول کے احاطے میں ایک لڑکی پر چار ہم عمر لڑکیوں نے حملہ کیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑ کی کے والد نے ایک فوجداری مقدمہ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بیٹی پر اس وقت حملہ کیا گیا جب اس نے مرکزی ملزم کی طرف سے پیش کی جانے والی منشیات کے استعمال سے انکار کر دیا۔کوئی توقع کر سکتا ہے کہ ایسا تعلیمی ادارہ جو معدودے چند مراعات یافتہ طبقے کو معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے اس میں ایسی شرمناک حرکت میں بھی ہو سکتی ہے اگر چہ ایسے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے ہنر مند پیشہ ور افراد پیدا کرے گا جو معاشرے میں اپنا حصہ ڈالیں گے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں ایسے اخلاق سوز واقعات ہو رہے ہیں۔ یادر ہے کہ جو کچھ ہم نے وائرل ویڈیو میں دیکھا وہ خوفناک اور شرمناک ہے یہ غنڈہ گردی صرف پنجاب میں نہیں ہو رہی بلکہ ملک کی نامی گرامی جامعات بھی اس کا شکار نظر آتی ہیں جہاں پر نہ صرف شریف طلباء پر تشدید کیا جاتا بلکہ منشیات فروشی اور اس کا استعمال بھی دھلڑے کیساتھ کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر پابندیاں لگانے کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر کے انہیں مزید بگاڑ رہے ہیں۔ متاثرہ کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمات کے والدین کی جانب سے ان پر مقدمہ چھوڑنے کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے ۔ ایسی حرکتوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے رویے پر نظر رکھیں اور اس کے مطابق ملوث طلبا کو سزا دیں۔ ادھر اس کی ذمہ داری یکساں طور پر والدین پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اخلاقی طور پر مضبوط کریں تاکہ وہ بے راہ روی کا شکار نہ ہو سکیں۔علاوہ ازیں اس مقدمے کو نمٹانے والی معزز عدالت کو اس کو ایک مثال بناتے ہوئے از خود نوٹس لیکر فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ آئند ہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے اور یہ تاثر بھی جائے کہ کوئی بھی شخص خواہ اس کی دولت یا اثر و رسوخ کتنا ہی زیاد کیوں نہ ہو وہ قانون سے بالاتر نہیں ۔ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ تشدد کے ایسے واقعات غیر انسانی ہیں اور ان سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کو ملک کے معروف تعلیمی اداروں میں رائج غنڈہ گردی کلچر کی اقسام کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینا چاہیے۔ اگر پاکستان کو مستقبل میں ترقی کرنا ہے تو اخلا قیات، قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت جیسی خوبیوں اور مہارتوں کو چھوٹی عمر سے ہی پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ جب تک بچوں کو چھوٹی عمر میں اخلاق سوز حرکتیں کرنے سے نہیں روکا جائے گا یہ نامی گرامی ادارے بے راہ روی پھیلاتے رہیں گے ۔ md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed