معیشت سدھارنے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت

پاکستان نے سال 2022 کا آغاز دیوالیہ ہونے کی تیز و تند بحث کے درمیان کیا تھا جو اب بھی زور شور سے جاری ہے ۔ ہماری گرتی ہوئی معیشت کا یہ عالم ہے کہ31 دسمبر 2021 سے، روپیہ 176 روپے سے 226 روپے فی ڈالر پر آ گیا ہے اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 141 روپے سے بڑھ کر 214 روپے اور ڈیزل کی قیمت 131 روپے سے بڑھ کر 227 روپے ہو گئی۔ اگر ہم پچھلے بارہ مہینوں پر ایک نظر ڈالیں تو سال کا نسبتاً کامیاب آغازای ایف ایف پروگرام کے احیا ء کیساتھ ہوا تھا تاہم افسوس کی بات ہے کہ ہم اس کے تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکے ۔ ہمارا ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب قابلِ رشک نہیں ہے تاہم ہمارے وزیر خزانہ اب بھی معاشی استحکام کی بات کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ یہ بتاتے ہیں کہ روپے کی قدر کتنی کم ہے لیکن اس محاذ پر ان کی سخت گفتگو گرے مارکیٹ میں ترسیلات اور نجی ہولڈنگز کے ایک اہم تناسب کو آگے بڑھا رہی ہے۔ موجودہ مالیاتی پالیسیوں کی مجموعی سمت استحکام کے لئے فکرمند ہونے کی بجائے بیلٹ باکس تک پہنچنے کی طرف بہت زیادہ تیار نظر آتی ہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کی حکومت کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ مضبوط سیاسی قیادت کی ہے نہ کہ مقبول سیاسی پوائنٹ سکورنگ۔ جتنا جلد ہمارے سیاستدان اس رویے سے نکلیں گے یہ ہماری جمہوریہ کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگاکیونکہ معاشی حالت بہتر نہیں ہے ۔ سٹاک کی قیمت کم ہو رہی ہے لیکن سونا مہنگا ہورہا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار کس قدر محتاط ہیں۔ دسمبر 2021 سے کے ایس ای100انڈیکس 44,596 سے 39,802 پوائنٹس تک گر گیا ہے لیکن سونا 108,196 روپے سے بڑھ کر 156,636 روپے فی 10 گرام یا 126,200 روپے سے بڑھ کر 182,700 روپے فی تولہ ہو گیا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معیشت کو مشکلات سے باہر نکالنے کے لیے جو روڈ میپ تیار کیا ہے اسے شیئر کرنے سے غیر معمولی طور پر اعتراض کر رہے ہیں۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ سرمایہ کی آمد رفت وقت کے ساتھ مکمل ہو جائے گی ۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مرکزی بینک کی فاریکس ہولڈنگز کو حقیقی طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا اور پی ڈی ایم کے حکمت عملی ساز اس مون سون میں پاکستان میں آنے والے سیلاب کی تباہی کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے اور نہ ہی وہ یوکرین کی جنگ، عالمی کساد بازاری اور کوویڈ 19 کے منفی اثرات کے لیے منصوبہ بندی کر سکے ۔ مگر اب جب کہ ڈار معیشت کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ خراب صورتحال کو بہتر بنائیں اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ انہیںمعلوم ہونا چاہیے کہ افراط زر گزشتہ دسمبر کے لگ بھگ 12 فیصد سے تقریبا دوگنا ہو کر اب تقریبا 24 فیصد ہو گیا ہے جو ممکنہ طور پر اس حد تک مضبوط ہو گیا ہے کہ اسے مستحکم کرنے میں اگلے دسمبر تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ روایتی حکمت کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو ٹھیک کرنا پاکستان کے بازاروں کو مستحکم کرنے اور مختصر ترتیب میں استحکام کی طرف کچھ پیش رفت کرنے کا واحد شارٹ کٹ ہے۔ یاد رہے کہ اسحاق ڈار نے ماضی میں روایتی حکمت کو کامیابی سے چیلنج کیا ہے۔ اگر وہ جلد بازی میں پاکستان کے بیرونی فنانسنگ کے مسئلے کے حل کا خواب دیکھ سکتے ہیں تو معیشت جو 2017 میں 2023 تک دنیا کی 18 ویں سب سے بڑی جی ڈی پی پیدا کرنے کی راہ پر گامزن تھی، کم از کم اس سال دیگر ماہ و سال کے مقابلے میں اپنے پاں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ آنے والا سال ملک کی معیشت کے لئے کیسا ثابت ہو تا ہے ۔

md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed