پشاور بار ایسوسی ایشن نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت فیڈرل جوڈیشل منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مجسٹریٹ کی عدالتیں دوسرے جگہ منتقل کرنے سے وکلا اور سائلین کو شدید مشکلات درپیش ہونگے،جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالتوں کے ساتھ تھانے بھی منتقل ہونگے، اس سے مشکلات مزید بڑھ جائے گے، انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور تھانوں کی منتقلی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف مقامات پر مجسٹریٹ کی عدالتیں اور تھانے منتقل ہونے سے عدلیہ کے انتظامی امور مزید پیچیدہ اور متاثر ہونگے، پشاور بار کی جانب سے جاری کردی اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز پشاور بار کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا ۔صدر پشاور بار ایسوسی ایشن قیصر زمان ایڈوکیٹ نے جنرل باڈی کے سامنے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا، جس کے بعد ممبران نے مذکورہ نوٹیفیکیشن کے حوالے سے اپنی تجاویز، تحفظات اور آرا پیش کیں۔ ممبران بار نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ حبیب اللہ اور کزئی کی عدالت تھانہ جات کو جوڈیشل کمپلیکس پشاور سے حیات آباد منتقل کرنے سے وکلا اور سائلین کو شدید مشکلات، اضافی سفری اخراجات اور وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جنرل باڈی اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ عدالتی سہولیات کو ایک ہی مقام پر فراہم کرنا ہے تاکہ وکلا، سائلین اور عدالتی عملے کو آسانی حاصل ہو، مقدمات کی پیروی میں سہولت پیدا ہو اور انصاف تک عوام کی رسائی مزید مثر اور آسان بنائی جا سکے۔ عدالتوں اور متعلقہ تھانہ جات کی مختلف مقامات پر منتقلی سے نہ صرف وکلا اور سائلین کے لیے عملی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عدالتی اور انتظامی امور میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تفصیلی بحث کے بعد جنرل باڈی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 27اگست کو ہونے والے اعلامیہ کو فوری واپس لیا جائے اور جوڈیشل مجسٹریٹ حبیب اللہ اور کزئی کی عدالت سمیت تمام متعلقہ تھانہ جات کو دوبارہ جوڈیشل کمپلیکس پشاور منتقل کیا جائے۔جنرل باڈی اجلاس میں صدر پشاور بار قیصر زمان ایڈوکیٹ نے اس معاملے پرموثر پیش رفت اور متعلقہ حکام کے ساتھ با معنی مذاکرات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی منحصر طور پر تشکیل دی، جس کے چیئرمین احمد فاروق فاروق احمد خٹک، ممبر جوڈیشل کونسل کمیٹی کے دیگر اراکین میں رفیق مہند ایڈوکیٹ، فضل واحد ایڈوکیٹ ممبر ان خیبر پختونخوا بار کونسل، امین الرحمن یوسفزئی ایڈوکیٹ، صدر پشاور بار ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، قیصر زمان ایڈوکیٹ، صدر پشاور بار ایسوسی ایشن، یاسر خٹک، سابقہ جنرل سیکرٹری پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اشفاق احمد خلیل ایڈوکیٹ، سابقہ صدر پشاور بار ایسوسی ایشن شامل ہوں گے۔جنرل باڈی کے فیصلے کے مطابق مذکورہ کمیٹی 72 گھنٹوں کے اندر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے ملاقات کرے گی اور نوٹیفیکیشن کے حوالے سے وکلا برادری کے تحفظات اور مشکلات سے آگاہ کرے گی۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے سامنے نوٹیفیکیشن کی واپسی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سمیت تمام متعلقہ تھانہ جات کو دوبارہ جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں بحال کرنے کے مطالبے کو پیش کرے گی۔ جنرل باڈی اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ کمیٹی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے ملاقات کے بعد اپنی سفارشات اور رپورٹ دوبارہ جنرل باڈی کے سامنے پیش کرے گی، جس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔جنرل باڈی اجلاس سے ممبران بار نے کہا کہ پشاور بار ایسوسی ایشن کا بنیادی مقصد وکلا اور سائلین کے لیے آسان، مثر اور شفاف نظام انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ بار ایسوسی ایشن ایسے ہر اقدام کی حمایت کرے گی جو انصاف کی فراہمی کو آسان بنائے، جبکہ ایسے انتظامی فیصلوں کے حوالے سے مثر آواز اٹھائی جائے گی جن سے وکلا اور سائلین کو غیر ضروری مشکلات، وقت کے ضیاع اور اضافی مالی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے۔ صدر پشاور بار قیصر زمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ باہمی احترام، افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتی ہے اور امید ہے کہ متعلقہ حکام و وکلا اور سائلین کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر مثبت اور فوری فیصلہ کریں گے







