مسافروں کی بڑھتی تعداد، بی آر ٹی کیلئے 50 نئی بسیں خریدنے کا فیصلہ

صوبائی دارالحکومت پشاور میں مسافروں کی بڑھتی تعداد اور موجودہ بسوں پر بڑھتے دبا کے پیش نظر پشاور بی آر ٹی نظام میں 50 نئی بسیں شامل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے، جس پر مجموعی طور پر 4 ارب 98 کروڑ 92 لاکھ روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے مطابق پشاور بی آر ٹی کیلئے نئی الیکٹرک بسوں کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کیا گیا ہے۔ منصوبے کی انتظامی منظوری کے بعد تکمیل کی مدت 22 ماہ مقرر کی گئی ہے۔منصوبے کے تحت 12 میٹر لمبی 50 بیٹری الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی، بسوں کے ساتھ 15 چارجرز، آئی ٹی ایس آلات اور دیگر ضروری سامان بھی حاصل کیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق نئی بسیں پشاور بی آر ٹی کے پانچ نئے یا توسیعی روٹس پر چلائی جائیں گی، جن کی مجموعی لمبائی تقریبا 31 کلومیٹر ہے۔ان روٹس میں مال آف حیات آباد تا جمرود، پشتخرہ تا باڑہ بازار بذریعہ باڑہ روڈ، گل بہار تا ڈبگری گارڈن، شاہ عالم پل تا ناگمان اور کوہاٹ اڈہ روٹ کی توسیع شامل ہیں۔ان پانچوں روٹس پر مجموعی طور پر 50 الیکٹرک بسیں چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق الیکٹرک بسوں کے استعمال سے سالانہ تقریبا 19 کروڑ 80 لاکھ روپے ایندھن جبکہ 7 کروڑ روپے مرمت کی مد میں بچت متوقع ہے۔یوں نئی الیکٹرک بسوں سے مجموعی طور پر سالانہ تقریبا 26 کروڑ 80 لاکھ روپے کی بچت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔منصوبے کے مطابق پشاور بی آر ٹی میں نئی الیکٹرک بسوں کے اضافے سے شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کی مزید سہولت میسر آئے گی اور روزانہ تقریبا 80 ہزار نجی گاڑیوں کے سڑکوں سے کم ہونے میں مدد ملے گی۔نئی بسوں کی شمولیت سے بی آر ٹی نظام پر موجودہ دبا کم کرنے اور مسافروں کو نئے و توسیعی روٹس پر بہتر سفری سہولت فراہم کرنے کی توقع ہے۔ یاد رہے کہ مسافروں کی بڑھتی تعداد اور موجودہ بسوں پر بڑھتے دبا کے پیش نظر پشاور بی آر ٹی نظام میں 50 نئی بسیں شامل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے.

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed