خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت پولیس کے اہلکار کو پشاور سے اغوا کر لیا گیا، مغوی پولیس اہلکار کی شناخت سمیع اللہ کے نام سے ہوئی۔پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کے مطابق سمیع اللہ نامی پولیس اہلکار کو پشاور کے تھانہ پشتخرہ کے حدود اچینی چوک سے اغوا کیا گیا، انہیں مسلح افراد ویگو ڈالے میں ڈال کر لے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سمیع اللہ علاج کے سلسلے میں پشاور گئے تھے اور وہ لکی پولیس امن کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔انہوں نے دھمکی دی ہے کہ پولیس اہلکار کو اگر کچھ ہوا تو تمام تر زمہ داری تھانہ پشتخرہ کے ایس ایچ او پر ہوگی۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار کے اغوا کے بعد گاں لنڈیوا کے مکینوں نے پشاور کراچی انڈس ہائی وے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ پولیس امن کمیٹی نے بھی پولیس لائن میں تمام پولیس اہکاروں کو پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ذرائع کے مطابق تھانوں میں صرف ایک سنتری اور ایک محرر کو موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ باقی تمام اہلکاروں کو فوری طور پر پولیس لائن پہنچنے کا کہا گیا ہے۔اسی طرح ٹریفک پولیس سمیت مختلف مقامات پر ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو بھی ڈیوٹیاں چھوڑ کر پولیس لائن پہنچنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔پولیس امن کمیٹی کے عہدیداروں کی جانب سے اہلکاروں کو مبینہ طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والا شخص ہم میں سے نہیں ہوگا۔پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے ایک رکن کو مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے خلاف پولیس امن کمیٹی نے احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس کے سلسلے میں یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں پولیس امن کمیٹی کا احتجاج اور اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوگئے، جبکہ اس سے شدید ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق پھاٹک کے مقام پر احتجاج کے باعث سینکڑوں گاڑیاں ٹریفک میں پھنس گئیں، جس سے شہریوں، مسافروں اور دیگر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، سرائے نورنگ کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔پولیس امن کمیٹی کی جانب سے پولیس اہلکار سمیع اللہ کے مبینہ اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ہے







