سینٹرل جیل پشاور میں قیدیوں نے ریمیشن کے معاملے میں مبینہ تاخیر، امتیازی سلوک اور قانونی حقوق پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔ذرائع کے مطابق قیدیوں نے واضح کیا ہے کہ جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مشقت سے انکار، بھوک ہڑتال اور گنتی میں عدم شرکت سمیت احتجاج کے دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریمیشن کے حقدار قیدیوں کے معاملات میں مبینہ طور پر تاخیر کی جا رہی ہے، جبکہ بعض بااثر اور صاحبِ حیثیت قیدیوں کو مبینہ طور پر رعایت یا معافی دے کر رہا کیے جانے کا دعوی بھی کیا گیا ہے۔قیدیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان الزامات میں صداقت ہے تو ریمیشن اور رہائی کے تمام معاملات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔احتجاج کرنے والے قیدیوں نے چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور متعلقہ اعلی حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔قیدیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلی حکام سینٹرل جیل پشاور کا دورہ کرکے ان کے مسائل براہِ راست سنیں اور ریمیشن سے متعلق شکایات کا جائزہ لیں۔قیدیوں نے وزیراعلی خیبرپختونخوا، وزیر قانون اور وزیر جیل خانہ جات سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سینٹرل جیل پشاور کا ہنگامی دورہ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ ریمیشن سمیت دیگر قانونی حقوق کے حوالے سے شکایات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور حقدار قیدیوں کو قانون کے مطابق ریلیف فراہم کیا جائے۔قیدیوں کا کہنا ہے کہ اب ہم خاموش نہیں رہیں گے اور جب تک ان کے جائز قانونی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ریمیشن کے معاملات پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔







