تحصیل درگئی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں تین افراد جاں بحق ہوگئے ۔ پہلی واردات کے مطابق مسمی محمد عارف خان ،محمد اسد خان ولد حاجی ظفر خان ساکنان درگئی پھاٹک نے اپنے مجروح بھائی محمد قیوم خان کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال درگئی بغرض علاج لایا جہاں مجروح محمد قیوم خان نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے بھائیوں محمد عارف خان ،محمد اسد خان کے ساتھ اپنے حجرہ درگئی پھاٹک میں موجودتھا کہ ملزم حماد کمال ولد امیر کمال ساکن کینال روڈ جبن درگئی موٹر کارسے بمع کلاشنکوف اتر کر ہم تینوں بھائیوں پر بہ ارادہ قتل فائرنگ شروع کی ۔ جس کے نتیجے میں متعدد گولیاں لگ کر میں شدید زخمی ہوا جبکہ میرے دیگر بھائی فائرنگ سے بال بال بچ گئے ۔ملزم واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوا ۔ وجہ تنازعہ ا مد وفت کا راستہ بتایا جاتا ہے ۔ مجروع محمد قیوم خان نے بعد میں دم توڑ دیا ۔ ایک اور واردات میں اسی ہی ملزم حماد کمال ولد امیر کمال ساکن کینال روڈ جبن درگئی کے خلاف اپنے بھائی عمر کمال ولد امیر کمال نے اپنے ناظر مقتول سید رحمان ولد عبدالودودساکن زنگل پٹے پیتاؤ سخاکوٹ کی نعش کو درگئی ہسپتال لا کر پولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے کہا کہ مقتول سید رحمان گزشتہ 30,35سال سے ہمارے ساتھ ناظر تھا اور ہماری زمینوں کی رکھوالی کرتا تھا ۔وقوعہ کے وقت مقتول سید رحمان ہمارے لاؤنچ میں موجود تھاکہ میرا بھائی ملزم حماد کمال ولد امیر کمال اپنے کمرے سے بمع کلاشنکوف نکل کر ناظر سیدرحمان پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں سید رحمان موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا ۔جبکہ میں نے اپنے کمرے میں پناہ لے لی ملزم کی فائرنگ سے دروازوں اور گھر میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہچا ملزم ارتکاب جرم کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ ملزم حماد کمال مقتول سید رحمان کو اپنی جائیداد کی تقسیم میں رکاوٹ سمجھتا تھا۔ایک اور واقعہ میں تحصیل درگئی کے علاقہ ورتیر گڑنگ درہ میں جائیداد کے تنازعہ پر سگے بھائی نے اپنے بھائی راحت شاہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔







