بانی کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پر حکومتی اراکین کا احتجاج

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا۔رکن اسمبلی عبدالاسلام آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے انہیں شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم بدقسمتی سے ملک میں جنگل کا قانون ہے اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے اعلی عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ ملک و قوم کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں انہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، جبکہ فلاحی شعبے میں نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم ہسپتال جیسے ادارے قائم کیے۔ انہوں نے ہمیشہ غریب عوام کے لیے سوچا۔عبدالاسلام آفریدی نے کہا کہ ملک کے ہیرو کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ فاطمہ جناح کے ساتھ جو کچھ ہوا، آج وہی صورتحال عمران خان کی بہنوں کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے بنیادی حق کے مطابق مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔حکومتی رکن فضل الہی نے کہا کہ ملک میں وطن کے غداروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیا جارہا جیسا عمران خان کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی واضح کردیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں ہوگا، اس لیے پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز کو ڈرنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔رکن اسمبلی شفیع اللہ نے کہا کہ نادیدہ قوتوں نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظرانداز کرکے قانون شکنی کی ہے۔ اگر وفاقی حکومت کو عدالتی فیصلے سے اختلاف تھا تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ حکومت کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کرسکتی ہے اور اس کے لیے نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی جاسکتی ہے، تاہم ریاست اپنی مرضی سے عدالتی فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارا قائد جیل میں ہے، کل کسی دوسری جماعت کا قائد بھی ہوسکتا ہے، لیکن آئین اور قانون ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔شفیع اللہ نے کہا کہ جب نواز شریف بیمار ہوئے تو عمران خان نے انہیں ہسپتال میں داخل کرانے کے احکامات دیے تھے اور جاتی امرا کو سب جیل قرار دے کر ہسپتال جیسی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) قانون اور آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے اور اس کی سیاست اب بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔معاون خصوصی ملک عدیل نے بھی عدالتی فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا شفا ہسپتال میں علاج کی سہولت حاصل کرنا ایک شہری کا حق نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed