خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اقلیتی رکن سریس کمار نے میڈیکل تعلیمی اداروں میں دو فیصد اقلیتی کوٹے پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا۔رکن اسمبلی اسکر پرویز نے کہا کہ ہر سال 27 اقلیتی طلبہ اپنے حق سے محروم ہورہے ہیں۔ جناح کالج اور اسلامیہ کالج میں پری میڈیکل کے لیے اقلیتی طلبہ کے لیے صرف ایک، ایک نشست مختص ہے۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کے لیے دو فیصد کوٹے کی پالیسی 2019 میں نافذ کی گئی تھی، تاہم سات سال گزرنے کے باوجود متعلقہ محکمہ اس پر عملدرآمد نہیں کراسکا۔ انہوں نے محکمہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک پالیسی پر بھی عملدرآمد ممکن نہیں بنایا جاسکا۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے معاملے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کل اجلاس طلب کرکے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔دریں اثنا عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان نے افغانستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی ڈگریوں کی عدم شناخت کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے تقریبا پانچ ہزار پاکستانی طلبہ اس مسئلے سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد خیبرپختونخوا کے طلبہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان طلبہ کو افغانستان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ این او سی بھی جاری کیے گئے تھے، اس کے باوجود اب ان کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جارہا۔وزیر صحت خلیق الرحمن نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کو خط لکھا جائے گا۔







