پشاور کے سرکاری ہسپتالوں کے ائی سی یو میں بیڈ نہ ملنے پر درجنوں مریضوں کو پرائیویٹ اسپتالوں میں منتقل کر دیا ہے ائی سی یو میں بیڈ ملنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے ائی سی یو میں داخلہ کے لیے سیاسی شخصیات کے سفارشات کے بعد داخلہ ممکن ہو رہا ہے پشاور کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں یہ ائی سی یو میں داخلہ نہ ملنے کے باعث گزشتہ شب درجنوں سیریز مریضوں کو پرائیویٹ اسپتالوں میں منتقل کر دیے گئے پرائیویٹ ہسپتالوں کی ائی سی یو کے 24 گھنٹے کی فیس 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک ہیں جبکہ بعض مریضوں کے پاس پیسے نہ ہونے کی باعث ائی سی یو کے باہر مری سمیت موجود رہے تینوں ہسپتالوں کے ذرائع کے مطابق ائی سی یو میں بیڈز ملنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے ائی سی یو میں جگہ نہ ملنے پر اور بیرونی مہنگے ترین علاج کے اخراجات برداشت نہ کرنے پر بعض مریض زندگی کے بازی اب تک ہار چکے ہیں۔







