دفاعی معاہدہ ایران کیخلاف نہیں ہے ، اسماعیل بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین مشترکہ دفاعی معاہدہایران کے خلاف ہے۔ اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اسماعیل بقائی نے اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہاکہ ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔بقائی نے کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے دورہ پاکستان کیلئے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران فی الحال آبنائے ہرمز میں راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ، ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے۔ پیغامات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے اور یہ روزمرہ معاملات کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے طریق کار زیر بحث آئے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ جب آپ بحری خدمات فراہم کرتے ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed