اتحادِ تنظیماتِ مدارس خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر مولانا حسین احمد نے کہا ہے کہ دینی مدارس امن و سلامتی کے مراکز ہیں، انہیں شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑنا افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ جامعہ امداد العلوم، مسجد درویش پشاور صدر میں اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علماء اور مدارس بلاامتیاز ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔مولانا حسین احمد نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مدارس کو رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس، ڈیٹا کلیکشن اور آپریشن زدہ علاقوں میں مساجد و مدارس کے تحفظ سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع، خصوصاً تیراہ اور اورکزئی میں متاثرہ مساجد و مدارس کی ازسرنو تعمیر و بحالی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کے لیے صوبائی حکومت فوری قانون سازی کرے۔ مدارس کے منجمد بینک اکاؤنٹس بحال کیے جائیں اور مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ معلومات طلب کرنے کے بجائے ڈیٹا کے لیے ون ونڈو سسٹم قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے تحت ملک بھر میں 40 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات دینی و عصری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ریاست اور مدارس کے درمیان اعتماد مضبوط ہونے سے ملک میں امن، اتحاد اور استحکام کو فروغ ملے گا۔







