چین کا امریکی تجارتی پابندیوں کے جواب میں جوابی اقدامات کا اعلان

چین نے واشنگٹن کی جانب سے جبری مشقت اور قومی سلامتی کے خدشات کے تحت لگائی گئی حالیہ تجارتی پابندیوں کے ردِعمل میں امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ عالمی خبررساںادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدامات چین کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ چین صرف ضروری جوابی اقدامات ہی کر سکتا ہے، جن میں امریکہ کو ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات و ٹیکنالوجی کی برآمد پر کنٹرول سخت کرنا شامل ہے۔بیجنگ کے اقدامات میں چینی سرٹیفیکیشن اداروں کی فیکٹری انسپیکشن معطل کرنا، امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا اور دفتر کے پرنٹرز اور کاپی مشینوں کی درآمد پر قومی سلامتی کی تحقیقات شروع کرنا شامل ہے۔چین نے جن چھ امریکی کمپنیوں پر پابندیاں لگائیں ان میں اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز اور سڑاٹم ریزروائر بھی شامل ہیں۔ چین نے کہا کہ یہ کمپنیاں غیر قانونی امریکی پابندیوں میں مدد اور حمایت کر رہی تھیں اور ان کی سرگرمیوں کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔اقوامِ متحدہ نے سنکیانگ میں زیادہ تر مسلم ایغور اقلیت کے خلاف ممکنہ جرائمِ انسانیت کی وارننگ دی ہے، جسے چین سختی سے رد کرتا ہے۔چین کے اعلی تجارتی اہلکار ہی لیفینگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے فون پر بات کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا۔گذشتہ ہفتے جب واشنگٹن نے بیرونِ ملک تیار کردہ انسان نما اور روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگائی تھی تو چین نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ چینی کمپنیوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔چین کے جوابی اقدامات میں ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات و ٹیکنالوجی کی برآمد پر سخت کنٹرول اور چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے چین اور 59 دیگر ممالک پر نیا ٹیرف لگایا جو حالیہ تجارتی اقدامات کی ایک کڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed