امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے کیے گئے ایک نئے منصوبے کے اعلان کے باوجود غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید 19 فلسطینی شہید ہو گئے۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ شہر کے السوسی ٹاور پر فضائی حملے میں حاملہ خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے 3 افراد شہید ہو گئے، خان یونس کے علاقے القرارہ میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں خاندان کے 3 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہوئے۔وسطی غزہ کے دیر البلح میں 5 افراد شہید ہوئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جبالیہ کیمپ، المواصی اور الرمل میں بھی اسرائیلی حملوں میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔فلسطینی حکام کے مطابق حملوں میں حالیہ ہفتوں کی سب سے زیادہ شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔اس سے ایک روز قبل الاقصی شہدا اسپتال سے منسلک ادویات کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس سے طبی سہولتوں کو شدید نقصان پہنچا۔د وسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ سے فوج واپس نہیں بلائے گا جب تک حماس مکمل طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے منصوبے میں قطر اور ترکیہ کے کردار اور دیگر شقوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ادھر حماس نے دعوی کیا کہ اسرائیل جنگ بندی پر ہونے والی پیش رفت کو ناکام بنانے کے لیے حملے تیز کر رہا ہے اور ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔







