متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ امراضِ جگر نے خبردار کیا ہے کہ فیٹی لیور اور جگر کی دیگر بیماریاں 10 سے 30 سال تک بغیر کسی واضح علامت کے خاموشی سے بڑھ سکتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصاب کی عدم موجودگی ہے۔ ماہرین کے مطابق یو اے ای میں 30 سے 40 فیصد بالغ افراد اس کا شکار ہیں، اور اب غیر متوازن طرزِ زندگی، موٹاپے اور جِم سپلیمنٹس کی وجہ سے نوجوان بھی اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے تجویز دی ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا شکار افراد سال میں کم از کم ایک بار الٹراساؤنڈ اور فائبرو اسکین کے ذریعے جگر کی اسکریننگ لازمی کروائیں۔







