دستِ شفقت کی اوٹ میں خنجرِ مفاد

 

تحریر: عباس مہد

ہماری عجلت پسند اور مادیت زدہ دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یہاں منافقت عام ہو چکی ہے بلکہ اصل دکھ یہ ہے کہ اب گناہ بھی ثواب کا لبادہ اوڑھ کر نازل ہوتا ہے۔ انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ ابلیس نے بھی جب آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا تو اس کے پاس انا کا ایک کھوکھلا دلیل نامہ تھا مگر جب اس نے شجرِ ممنوعہ کا پھل کھلایا تو ‘خیر خواہی’ اور ‘سرپرستی’کا نقاب پہن کر آیا تھا۔ آج کا معاشرہ بھی اسی ابلیسی روایت کا تسلسل ہے۔ یہاں کسی کا گلا گھونٹنے کے لیے اب خنجر کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ ‘دستِ شفقت’کا ایک لمس ہی کافی ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کوئی اپنا ہاتھ ہمارے شانے پر رکھتا ہے تو کیا وہ واقعی ممتائی، استادانہ یا مخلصانہ شفقت کی ٹھنڈک ہے، یا اس لمس کے پیچھے کسی گہرے، تیکھے اور خونخوار مفاد کی تاریک چاپ چھپی ہے؟ کالم نگاری صرف واقعات کی عکاسی یا سیاست کے ایوانوں پر فکری تنقید کا نام نہیں، یہ انسان کے داخلی تضادات، ضمیر کے بکھرتے ہوئے شیشوں اور سماجی منافقت کے رخسار پر سچائی کا تھپڑ مارنے کا نام ہے۔ انسان جب اس کائنات کی وسعتوں میں آنکھ کھولتا ہے، تو وہ رشتوں، تعلقات اور سرپرستی کے ایک ایسے نیٹ ورک کا محتاج ہوتا ہے جہاں اسے قدم قدم پر سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ فطرت نے انسان کے اندر یہ پیاس رکھی ہے کہ کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھے، کوئی اس کی پشت پناہی کرے، اور کوئی اسے تھپک کر کہے کہ تم اکیلے نہیں ہو، لیکن اس فطری ضرورت کا سب سے سنگین استحصال وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں ‘دستِ شفقت’ کا مقدس استعارہ ‘مفاد پرستی’کی منڈی میں ایک سستا اور زہریلا آلہ کار بن جاتا ہے۔ تاریخِ انسانی کے اوراق الٹ کر دیکھئے، دنیا میں جتنے بھی بڑے استحصال ہوئے ہیں، وہ کبھی کھلم کھلا دشمنی کے نام پر نہیں ہوئے؛ سامراجیت جب کسی ملک پر قبضہ کرنے نکلتی تھی تو وہ اسے تہذیب یافتہ بنانے اور تحفظ دینے کا نام دیتی تھی، انگریز جب برصغیر میں داخل ہوا تو اس نے تجارتی سرپرستی اور دستِ شفقت کا ڈرامہ رچایا، مگر اس ہاتھ نے رفتہ رفتہ اس پورے خطے کی آبرو اور معیشت کو نچوڑ کر رکھ دیا اور آج بھی سیاسی میدانوں سے لے کر روحانی خانقاہوں تک اور کارپوریٹ ایوانوں سے لے کر گھر کی دہلیز تک ہر جگہ سرپرستی کی ایک ایسی دکان سجی ہے جہاں خلوص کی قیمت پر مفاد کی تجارت ہو رہی ہے۔ سقراط سے لے کر اقبال تک، اور تاریخِ اسلام کے عظیم کرداروں سے لے کر عام زندگی کے بے لوث محسنوں تک سچا دستِ شفقت وہ ہوتا ہے جو سورج کی دھوپ کی طرح بلا تفریق تپتے ہوئے وجود پر سائبان بن جائے۔ دستِ شفقت دینے والا ہاتھ کبھی یہ حساب نہیں رکھتا کہ اس نے کس کو کتنا سہارا دیا، وہ ہاتھ دینے کے بعد پھیلتا نہیں بلکہ دعا کے لیے اٹھتا ہے اور وہ ہاتھ جس سر پر گرتا ہے، اسے اپنا محتاج بنانے کے بجائے اسے خوددار اور خود کفیل بناتا ہے۔ استاد کا وہ دستِ شفقت جو شاگرد کو اپنے سے آگے نکلتے دیکھ کر مسکرائے، باپ کا وہ ہاتھ جو بیٹے کو گرنے سے بچائے اور پھر اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی آزادی دے، یا کسی مظلوم کے آنسو پونچھنے والا وہ نادیدہ ہاتھ جو بدلے میں کسی شکریہ کا طالب بھی نہ ہو یہ ہے حقیقی دستِ شفقت جو انسان کے اندر کی بالیدگی کو جلا بخشتا ہے اور اس کی انا کو شکست دینے کے بجائے اس کے اعتماد کو وقار دیتا ہے۔ لیکن ذرا اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر دوڑائیے! آج کا انسان جس سماج میں سانس لے رہا ہے، وہاں ‘مفاد پرستی’نے دستِ شفقت کا ایسا باریک اور پیچیدہ جال بچھایا ہے کہ عام انسان دھوکا کھا جاتا ہے۔ جب کوئی بااثر شخص، کوئی سیاسی آقا، کوئی کارپوریٹ باس یا کوئی خودغرض رشتے دار آپ کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہے، تو اس لمس کی گرمی میں مخلصانہ محبت نہیں، بلکہ ایک نادیدہ بیڑی کی چبھن ہوتی ہے، کیونکہ وہ آپ کو اپنے دستِ شفقت کے دائرے میں اس لیے رکھتا ہے تاکہ آپ کی پرواز اس کی خواہشات کے افق سے آگے نہ نکل سکے ،وہ آپ کو خوراک دیتا ہے مگر پر کاٹ کر، وہ آپ کو سایہ دیتا ہے مگر سورج کو دیکھنے کی اجازت چھین کر۔ اس کی سب سے بھیانک شکل تب سامنے آتی ہے جب آپ اس کے قائم کردہ دائرے سے باہر قدم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس دن آپ اپنی سوچ، اپنے فکر اور اپنی خودداری کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہی ‘دستِ شفقت’ جو کل تک آپ کے لیے سائبان بنا ہوا تھا، اچانک ایک ایسا تازیانہ بن جاتا ہے جو آپ کی پیٹھ کو زخمی کر دیتا ہے۔ مفاد پرست سرپرست کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ آپ کو اپنی احسان مندی کے طوق میں جکڑ کر رکھنا چاہتا ہے، وہ جب بھی بولے گا اپنے احسانات کا شمار کرائے گا اور جب بھی عمل کرے گا اپنے ذاتی مفاد کی پائیداری کے لیے کرے گا۔ فکر و دانش کا یہ تضاد آج ہماری سیاست، صحافت اور سماجی زندگی کے ہر رگ و پے میں سرائیت کر چکا ہے، جہاں ہم نے ایوانوں میں بیٹھے ان سیاسی لٹیروں کو دیکھا ہے جو الیکشن کے دنوں میں عوام کے سروں پر دستِ شفقت رکھنے کا ڈرامہ رچاتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے ہمدردی کے نعرے لگاتے ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی وہی ہاتھ گولی اور لاٹھی کی صورت میں عوام کے سینوں پر برستے ہیں، اور ہم نے ان صحافتی و علمی گروہوں کو بھی دیکھا ہے جو نوزائیدہ قلمکاروں کے سر پر اس لیے ہاتھ رکھتے ہیں تاکہ ان کے قلم کو اپنے بیانیے کا غلام بنا سکیں، ان کی سوچ پر اپنی مرضی کی مہر لگا سکیں، اور ان کی تخلیقی توانائیوں کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ایندھن بنا سکیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک باضمیر، حساس اور خوددار انسان کیسے پہچانے کہ اس کے سر پر رکھا جانے والا ہاتھ ‘شفقت’ کا ہے یا ‘مفاد’ کا؟ اس کا معیار بہت سادہ اور بے لاگ ہے، دستِ شفقت ہمیشہ آزادی دیتا ہے جبکہ مفاد پرستی ہمیشہ پالتو بناتی ہے؛ دستِ شفقت انسان کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے جبکہ مفاد پرستی انسان کے ضمیر کی بولی لگاتی ہے؛ دستِ شفقت کا مقصد دوسرے کا وجود سنوارنا ہوتا ہے جبکہ مفاد پرستی کا مقصد دوسرے کے وجود کو اپنے محل کی اینٹ بنانا ہوتا ہے۔ اگر ہماری نئی نسل (Gen-Z) اور آج کے فکری دھارے کو اس زہریلے نظام کے اثرات سے بچنا ہے، تو ہمیں اپنے اندر کی بصیرت کو بیدار کرنا ہوگا اور اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ سستی سرپرستی اور جھوٹے دلاسوں کے بدلے اپنی خودداری، اپنے قلم اور اپنے فکر کا سودا کرنا سب سے بڑی ذہنی خودکشی ہے اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر دھوپ میں جل جانا اس سے ہزار درجے بہتر ہے کہ انسان کسی مفاد پرست کے دستِ شفقت کے سایہ تلے بیٹھ کر اپنی روح کو غلام بنا لے۔ ارسطو نے ایک بار کہا تھا کہ احسان قبول کرنا اپنی آزادی کا ایک حصہ دوسرے کے ہاتھ میں بیچ دینے کے مترادف ہے، اگر وہ احسان نیت کی پاکیزگی سے عاری ہو۔ آج کا کالم نگار اور مفکر اگر اس تلخ حقیقت کو اپنے قلم کی نوک پر نہیں لائے گا، اگر وہ ان بھیڑیوں کا نقاب نہیں نوچے گا جو سرپرستی کی کھال اوڑھ کر گھوم رہے ہیں، تو یہ کالم نگاری کا سقوط ہوگا، کیونکہ ہمیں بتانا ہوگا کہ دستِ شفقت ایک مقدس فریضہ ہے، کوئی کاروباری انویسٹمنٹ نہیں جس کا پرافٹ وصول کیا جائے، اور جو لوگ شفقت کو تجارت بناتے ہیں وہ دراصل انسانیت کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ "دستِ شفقت یا مفاد پرستی؟ یہ محض ایک تحریر کا عنوان نہیں، یہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا اخلاقی محاکمہ ہے جو ہر اس شخص کے لیے ایک آئینہ ہے جو کسی پر احسان کر کے اس کی خودداری کی قیمت وصول کرنا چاہتا ہے، اور ہر اس مظلوم کے لیے ایک بیدار کن صدا ہے جو کسی کی جھوٹی سرپرستی کے سائے میں اپنی پرواز بھول چکا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ہاتھوں کی گرماہٹ سے نہیں، نیتوں کی پاکیزگی سے تعلقات کو پرکھیں؛ اگر ہاتھ واقعی شفقت کا ہے تو اسے سر پر جگہ دیں، لیکن اگر اس ہاتھ کے پیچھے مفاد پرستی کی بو آ رہی ہو، تو چاہے وہ کتنا ہی بااثر، قد آور یا طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے دستِ شفقت کو ٹھکرا کر دھوپ میں اکیلے چلنا سیکھیں کیونکہ آزاد روح کا ننگے پائوں چلنا، غلام وجود کے ریشمی قالینوں پر چلنے سے ہزار درجے افضل اور باوقار ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed