پاکستان میں مسلسل معاشی دباؤ، مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث عوام میں ڈپریشن، اینزائٹی اور جسمانی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن خاندانی تنازعات اور شدید ذہنی توازن کے بگاڑ کی وجہ بن رہا ہے۔ سروے کے مطابق ملک کی 32.3 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے، جبکہ دوسری جانب علاج کی سہولیات کی شدید کمی کے باعث 8 لاکھ افراد کے لیے محض ایک سائیکاٹرسٹ میسر ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کی اپ گریڈیشن اور ضلعی سطح پر نفسیاتی علاج کی سہولیات فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔







