نظام تباہ کرنیوالوں کو جواب بھی دینا ہوگا : ایمل ولی

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم جانتی ہے ملک کے نظام کی ناکامی کا اعتراف کون کر رہا ہے، اور جن قوتوں نے برسوں تک سیاسی و انتظامی معاملات پر اثرانداز ہو کر پالیسیاں بنائیں، انہیں اب اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام معاملات آئین کے سپرد کیے جائیں اور ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کرے۔ ان کے مطابق آئین کی بالادستی ہی ریاست کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل حقیقی جمہوریت ہے، جس میں عوام کو اختیار دیا جائے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، مضبوط بلدیاتی نظام قائم ہو، صوبوں کو آئینی حقوق ملیں اور پارلیمنٹ فیصلوں کا حقیقی مرکز بنے۔اے این پی سربراہ نے کہا کہ اگر انتظامی اصلاحات مقصود ہیں تو عوام کو بااختیار بنایا جائے، کیونکہ صرف نئے انتظامی یونٹس یا نقشے تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مضبوطی مزید تقسیم میں نہیں بلکہ مضبوط وفاق، صوبائی خودمختاری اور بااختیار عوام میں ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی متحد پختونخوا، مضبوط مقامی حکومتوں، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کی حامی ہے۔سربراہ عوامی نیشنل پارٹی نے مزید کہا کہ اگر نئی انتظامی اکائیاں بنائی جائیں تو وہ قومیتوں کی بنیاد پر، آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت بننی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی بندوق نہیں بلکہ بیلٹ، جبر نہیں بلکہ جمہوریت، تقسیم نہیں بلکہ اتحاد، اور اختیار کے ارتکاز کے بجائے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر یقین رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed