شانگلہ:آفتاب حسین
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز(سورینج) میں پیش آنے والے کوئلہ کان کے ہولناک حادثے میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 34مزدورجاں بحق ہوگئے۔اس واقعے نے شانگلہ کو ایک بار پھر غم کی ایسی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی برسوں میں کم ہی ملتی ہے۔ ہزاروں فٹ زیر زمین محنت مزدوری کرنے والے درجنوں کان کن چند لمحوں میں موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ان میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 34 مزدور شامل تھے جبکہ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر ایک ہی گھر کے تین سگے بھائیوں اور ان کے چچا کی شہادت جبکہ دوسرے خاندان سے بھی دو سگے بھائی شامل ہیں جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کیلئے بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مزدوری کر رہے تھے۔ جمعرات کی صبح معمول کے مطابق کان کن ہزاروں فٹ گہرائی میں واقع کوئلہ کان میں کام میں مصروف تھے کہ اچانک زیر زمین ساندھا گیس کا شدید دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے بعد کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا اور اندر موجود مزدور ملبے تلے دب گئے۔ امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں تاہم گہرائی، زہریلی گیسوں اور دشوار گزار حالات کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی مشکلات کا شکار رہا۔ اس سانحے میں 34افراد جاں بحق ہوئے اور ان تمام محنت کش مزدور وں کا تعلق شانگلہ سے تھا،یہ حادثہ صرف چند افراد کی موت نہیں بلکہ پورے شانگلہ کیلئے ایک اجتماعی سانحہ بن گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے تین سگے بھائی اور ان کا ایک چچا شامل ہیں۔ یہ چاروں افراد اپنے گھر کے واحد کفیل تھے اور روزگار کی تلاش میں سینکڑوں میل دور بلوچستان گئے تھے تاکہ اپنے بچوں، والدین اور اہل خانہ کی ضروریات پوری کر سکیں مگر قسمت نے انہیں زندہ واپس آنے کی مہلت نہ دی۔اس افسوسناک سانحے میں شانگلہ کے علاقے میاں کلے پیرآباد کے 22کان کن مزدور بھی جاں بحق ہوئے جبکہ دیگر مزدوروں کا تعلق ملحقہ دیہات سے ہے۔ متاثرین میں زیادہ تر افراد آپس میں رشتہ دار، عزیز و اقارب یا ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

حادثے کی خبر جیسے ہی شانگلہ پہنچی پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ہر طرف آہ و بکا، خواتین کی سسکیاں، بچوں کے رونے کی آوازیں اور بزرگوں کی بے بسی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ کئی گھروں میں ایک سے زائد افراد جاں بحق ہونے کے باعث پورا خاندان اجڑ گیا جبکہ متعدد بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں۔شانگلہ کی معاشی صورتحال کئی دہائیوں سے انتہائی کمزور رہی ہے۔ صنعتی ترقی نہ ہونے، روزگار کے محدود مواقع، زراعت کی کم پیداوار اور بے روزگاری کے باعث یہاں کے ہزاروں نوجوان مجبوری کے تحت بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی کوئلہ کانوں کا رخ کرتے ہیں۔ شانگلہ کی تقریبا 65 فیصد آبادی کا روزگار براہ راست یا بالواسطہ کوئلہ کان کنی سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تقریبا ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد کان کن محنت کش ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ شانگلہ میں کوئلہ کان کنی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا ذریعہ معاش بن چکا ہے۔ باپ کے بعد بیٹاپھر پوتا اسی خطرناک پیشے سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری انہیں اس قدر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہزاروں فٹ گہرائی میں اتر جاتے ہیں جہاں ہر لمحہ موت ان کی منتظر ہوتی ہے۔ کوئٹہ سورینج کا سانحہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بلوچستان کی مختلف کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے متعدد حادثات میں شانگلہ کے سینکڑوں مزدور اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اگر شانگلہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو شاید ہی کوئی سال ایسا گزرا ہو جس میں شانگلہ کے کان کنوں کی میتیں آبائی علاقوں میں نہ پہنچیں۔ کئی مواقع پر ایک ہی ہفتے میں پانچ سے چھ مزدوروں کی لاشیں شانگلہ لائی گئیں مگر ہر حادثے کے بعد صرف تعزیت، اعلانات اور وعدے کیے گئے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہے۔سماجی کارکنوں،علاقہ مکینوں کا کہنا ہیں کہ شانگلہ کے ہزاروں کان کن مزدور آج بھی بنیادی قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔ ان میں سے اکثریت کسی سرکاری ریکارڈ میں رجسٹرڈ نہیں، انہیں سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، ہیلتھ انشورنس یا لائف انشورنس جیسی بنیادی سہولیات حاصل نہیں۔ متعدد مزدور مختلف ٹھیکیداروں اور لیز ہولڈرز کے ذریعے کام کرتے ہیں جہاں حادثے کی صورت میں متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ بھی نہیں ملتا۔ شانگلہ میں اس وقت ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جو ماضی میں کوئلہ کانوں کے مختلف حادثات میں زخمی ہو کر مستقل معذور ہو چکے ہیں۔ کئی مزدور ہاتھ، پاں یا جسمانی صلاحیت کھونے کے بعد بستر تک محدود ہیں مگر ان کے لیے نہ کوئی مستقل وظیفہ ہے اور نہ ہی بحالی کا مثر نظام موجود ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے واحد کفیل حادثات میں جاں بحق ہوئے جس کے بعد ان کے بچے تعلیم چھوڑ کر کم عمری میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ جدید گیس ڈیٹیکشن سسٹم، وینٹیلیشن، ہنگامی اخراج کے راستے، حفاظتی تربیت اور عالمی معیار کے حفاظتی آلات اکثر کانوں میں موجود نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ساندھا گیس کے دھماکے، کان بیٹھ جانے اور زہریلی گیس بھر جانے جیسے واقعات بار بار پیش آتے ہیں۔شانگلہ کے سماجی رہنماں،علاقہ مکینوں اور مزدور تنظیموں نے وفاقی اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ سورینج سانحے کی شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، جاں بحق مزدوروں کے ورثا کو خطیر مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں جبکہ تمام کان کن مزدوروں کی لازمی رجسٹریشن، سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، لائف انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کو یقینی بنایا جائے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہیں کہ اگر حکومت واقعی ایسے سانحات کی روک تھام چاہتی ہے تو صرف امدادی اعلانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ کوئلہ کانوں میں عالمی معیار کے حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، باقاعدہ معائنہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مئوثر قانون سازی ناگزیر ہے۔







