ویمن یونیورسٹی مردان کے شعبہ سیاسیات نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز اور انڈونیشین کارنر، سفارت خانہ جمہوریہ انڈونیشیا، اسلام آباد کے اشتراک سے "پاکستان اور آسیان کو جوڑنے کے لیے شاہراہِ ریشم کی بحالی: تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے مواقع” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد انڈونیشین کارنر، نیشنل لائبریری آف پاکستان، اسلام آباد میں کیا۔سیمینار میں سفارتکاروں، اراکینِ پارلیمنٹ، ماہرینِ تعلیم، محققین اور طلبہ نے شرکت کی اور پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط اور علاقائی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔تقریب میں ماریشس کے ہائی کمشنر منسو کرِمبکس (H.E. Mr. Munsoo Kurrimbaccus) اور سری لنکا کے ہائی کمشنر، ریئر ایڈمرل فریڈ سینیوراتھنے (H.E. Rear Admiral Fred Senevirathne) نے بطور معزز مہمان شرکت کی۔ڈاکٹر سعدیہ سلیمان، ایسوسی ایٹ پروفیسر، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے شاہراہِ ریشم کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان ثقافتی روابط، کاروباری شراکت داری، مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ پر مبنی گرین کنیکٹیویٹی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔مولانا نسیم علی شاہ، رکن قومی اسمبلی اور مہمانِ خصوصی نے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان عوامی روابط، باہمی اعتماد اور تعاون کے مضبوط پل تعمیر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔رحمت ہندیارتا کسوما، منسٹر کونسلر و کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات، سماجی و ثقافتی امور، سفارت خانہ انڈونیشیا نے آسیان کی علاقائی تعاون میں اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارتی حجم 11 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور سماجی و ثقافتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب کی مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، وائس چانسلر، ویمن یونیورسٹی مردان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مماثلتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن، اتحاد اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے شاہراہِ ریشم کی بحالی کے ذریعے تجارت، سیاحت، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، آسیان، وسطی ایشیا، چین اور یورپ کے درمیان نئے اقتصادی اور تہذیبی راستے کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کے مزید مواقع میسر آسکیں۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی جس میں شرکا نے مقررین سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی، معزز مہمانوں، مقررین، صدر IIRIS شفقت رسول اور چیف گیسٹ پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔اس بین الاقوامی سیمینار کے منتظمین میں شفقت رسول (صدر IIRIS)، ڈاکٹر نیلوفر اکرام )شعبہ سیاسیات، ویمن یونیورسٹی مردان) اور محمد کامران خان (ویمن یونیورسٹی مردان) شامل تھے۔شعبہ سیاسیات کے اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی اور اس سیمینار کو پاکستان اور آسیان کے درمیان علاقائی تعاون اور رابطوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔







