تورغر میں آر ایچ سی میرامداخیل ہسپتال سہولیات سے محروم،پی ٹی آئی کارکنوں کا احتجاج

 

ضلع تورغر میں پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ کے سرگرم کارکن مختیار قریشی نے آر ایچ سی میرامداخیل ہسپتال کی بحالی کے لیے جاری احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کی صحت پالیسی اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مختیار قریشی نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی عدم توجہی، ضلعی انتظامیہ کی سست روی اور متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت کے باعث 2017 میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا آر ایچ سی میرامداخیل ہسپتال آج بھی غیر فعال اور ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ہسپتال کی بندش کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں مکین بنیادی اور ایمرجنسی طبی سہولیات سے مکمل محروم ہیں۔

انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں غریب مریضوں کو علاج کے لیے دور دراز کے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں صرف گاڑیوں کے کرائے کی مد میں 50 ہزار روپے تک کا بھاری خرچ آ جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کروڑوں کے اس منصوبے میں نہ تو ڈاکٹرز موجود ہیں، نہ لیبارٹری کی سہولت ہے اور نہ ہی دیگر بنیادی طبی سامان، جو کہ تورغر کے عوام کے ساتھ شدید ناانصافی ہے۔مختیار قریشی نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے پرزور مطالبہ کیا کہ RHC میرامداخیل ہسپتال کو فوری طور پر فعال کیا جائے اور وہاں لیبارٹری سمیت ڈاکٹرز اور تمام ضروری طبی عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ غریب عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو خبردار کیا کہ اگر ہسپتال کو فوری طور پر فعال نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ضلع تک پھیلا دیا جائے گا اور عوام اپنے آئینی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed