پاکستان اور ترکیہ تجارت کا نیا سنگِ میل

ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com

پاکستان کے قیام سے بہت پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں ترکیہ کے عوام کے لیے گہری محبت اور وابستگی موجود تھی۔ بیسویں صدی کے ابتدائی مشکل دور میں جب ترک قوم تاریخی چیلنجز سے گزر رہی تھی، برصغیر کے مسلمانوں نے ان کے ساتھ بھرپور جذباتی یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہی تاریخی یاد آج بھی ترکیہ کے قومی شعور میں احترام کے ساتھ محفوظ ہے اور اسی نے دونوں قوموں کے درمیان اعتماد کی وہ بنیاد رکھی جو باضابطہ سفارتی تعلقات سے بھی پہلے قائم ہو چکی تھی۔ جب پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تو ترکیہ نے اس نئے مسلم ملک کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔ پاکستان کے لیے ترکیہ ایک ایسی قوم تھی جس کی تاریخ شاندار، شناخت مضبوط اور قومی احیاء کی داستان متاثر کن تھی۔ترکیہ کے لیے پاکستان ایک ایسا برادر ملک تھا جس کے عوام ترک قوم کے لیے گہری محبت رکھتے تھے۔ یہی ابتدائی خیر سگالی جلد سفارتی تعلقات میں تبدیل ہوئی اور ایک ایسی دوستی کی بنیاد بنی جو بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے باوجود قائم رہی۔ آزادی کے بعد کے ابتدائی برسوں میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو باقاعدہ شکل دی۔ 1954 میں پاکستان اور ترکیہ نے دوستی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس سے سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعاون کو تقویت ملی جبکہ پاکستان اور ترکیہ علاقائی اہمیت کے امور پر مل کر کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 1964 میں پاکستان، ایران اور ترکیہ نے اس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد معاشی، ثقافتی اور ترقیاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ یہ تینوں ممالک جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا اور اناطولیہ کے سنگم پر واقع تھے، اس لیے آرسی ڈی کا تصور اپنے وقت کے لحاظ سے نہایت اہم تھا۔ اس نے یہ پیغام دیا کہ مسلم ممالک صرف مذہبی جذبات یا سیاسی بیانات کی بنیاد پر نہیں بلکہ تجارت، مواصلات، صنعت، تعلیم، ثقافت اور ترقی کے عملی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔ 1985 میں آر سی ڈی کو اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن یعنی ای سی او کی شکل دی گئی۔ بعد ازاں افغانستان، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اس تنظیم کا حصہ بنیں۔ یوں پاکستان اور ترکیہ ایک ایسے وسیع علاقائی پلیٹ فارم سے منسلک ہوئے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، قفقاز اورترکیہ کو آپس میں جوڑتا ہے۔آج کے دور میں جب عالمی سیاست میںرابطہ کاری، تجارتی راہداریوں، توانائی کے راستوں اور علاقائی منڈیوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، یہ علاقائی سوچ پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے اندر بھی قریبی تعاون کیا ہے اسی تناظرمیں گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا جس میں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان ترکیہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور تجارت کے ساتھ سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور ترک صدر نے استنبول میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس(بی ٹو بی) فورم سے مشترکہ طور پر خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف صدر اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے، دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔ عالمی اور علاقائی تنازعات پر دونوں ممالک کے مشترکہ موقف کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کے دوٹوک موقف پر بھی شکریہ ادا کیا۔ شہباز شریف نے ترکیہ کی کاروباری شخصیات سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں خصوصی اقتصادی زونوں میں سرمایہ کاری بڑھانے، معاشی تعاون مضبوط کرنے اور کلیدی شعبوں میں ترکی کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم نے دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رشتہ محبت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ یہ دورہ پاکستان ترکیہ سٹرٹیجک شراکت کو مزید گہرا کرنے اور معاشی تعاون کو نئی راہوں پر ڈالنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہوگا۔ صدر رجب طیب اردگان نے عالمی امن کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا نے اس سے سکھ کا سانس لیا۔ اُنہوں نے اسرائیل کو امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی اجازت نہ دینے کا دو ٹوک اظہار کیا اور کہا کہ ترکیہ امن و خوشحالی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ترک صدر نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا ترکیہ کا حالیہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ معاشی بحالی اور علاقائی سفارتکاری کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل تھا۔ صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ طے پانے والا پانچ ارب ڈالر کا تجارتی ہدف اگر حاصل کر لیا گیا تو دونوں ممالک کے معاشی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی تاریخ بہت وسیع ہے، پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکیہ خلافت کے خاتمے کا شکار ہوا تو برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت کے ذریعے ترک بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ طرابلس کی جنگ میں بھی اْن کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، یہ تاریخی اور جذباتی رشتہ آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہے۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ترکیہ نے اِسے تسلیم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو گئے، وقت کے ساتھ یہ رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ فروری 1954ء میں باہمی تعاون کا معاہدہ ہوا جو بعد میں بغداد معاہدے (سینٹو 1955ئ) کی بنیاد بنا۔ سرد جنگ کے دور میں بھی دونوں ممالک دفاعی اور سٹرٹیجک سطح پر ایک ساتھ کھڑے رہے جبکہ کشمیر کے مسئلے پر بھی ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کے موقف ہی کی حمایت کی۔ اگست 2022ء میں دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی تجارت معاہدہ (پی ٹی اے) دستخط ہوا جس کے تحت ترکیہ نے پاکستان کو 261 جبکہ پاکستان نے ترکیہ کو 130 ٹیرف لائنوں پر رعایت دی۔ دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) پر بھی بات چیت جاری ہے تاہم حقیقی کامیابی کا دارومدار اِن معاہدوں کے عملی نفاذ پر ہے۔ اِس وقت مہنگائی، بیروزگاری اور حالیہ علاقائی تنازعات نے پاکستان میں معاشی دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقتصادی تعاون کی تنظیم کو ازسرِنو فعال کیا جائے، وسطی ایشیاء کے ممالک کو شمولیت اختیار کرنے پر اْبھارا جائے تاکہ ایک مضبوط علاقائی تجارتی بلاک تشکیل پا سکے، تجارتی معاہدات عمل میں آ سکیں اور عوام کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ معاہدوں کی کامیابی اْسی وقت تسلیم کی جائے گی جب اْن کے ثمرات عام پاکستانیوں کی زندگی میں بہتری لائیں گے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی طور پر گہرے تعلقات کو اب مضبوط معاشی اور عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کا عندیہ دونوں رہنماؤں نے بھی دیا۔ اِس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کو اِس سلسلے میں انتہائی فعال کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ معاشی زونوں کی تشکیل میں کسی قسم کی پیچیدگی حائل نہ ہو سکے، سرمایہ کاری جلد از جلد ملکی معیشت کا حصہ بنے تاکہ عوام اِن اقتصادی سہولیات سے فائدہ اْٹھا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed