احتساب عدالت پشاور نے کرپشن سکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے قریبی رشتہ دار فہیم مون کی ضمانت درخواست مسترد کرتے ہوئے جیل میں رکھنے کاحکم دیدیا ۔احتساب جج محمد ظفر نے ضمانت درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کردیاجس میں قرار دیا ہے کہ ابتدائی جائزے سے ملزم کا دیگر ملزمان کیساتھ مل کر مبینہ خرد برد اور بدعنوانی میں ملوث ہونا ظاہر ہوتا ہے لہذا اس مرحلے پر اسے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔نیب خیبرپختونخوا کے سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم غیر قانونی ٹرانزیکشن اور خرد برد کے کیس میں ملوث ہے اور اس کیخلاف شواہد سامنے آئے ہیں۔ملزم نے مختلف بینکوں میں اپنے نام سے اکاونٹس کھولے جن میں کروڑوں کی مشکوک ٹرانزیکشن ہوئی جو اس کے نجی کاروبار کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔پراسیکیوشن کے مطابق ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران جائیدادوں کی رجسٹریاں، چیک بکس اور 27 لاکھ روپے بھی برآمد ہوئے جبکہ ملزم نے نیب کے سامنے پلی بارگین کی درخواست بھی دائر کی جو جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف ہے تاہم ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ فہیم کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ،وہ سرکاری ملازم ہے نہ ہی سرکاری ٹھیکیداربلکہ ایبٹ آباد میں "وی آئی پی آئل چینج” کے نام سے نجی کاروبار کرتا ہے۔ملزم کو صرف مرکزی ملزم کا قریبی رشتہ دار ہونے کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا اور وہ کسی انتظامی یا مالی معاملے میں شریک نہیں رہا۔بعدازاں عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔







