وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز اور پارٹی قائدین پر مشتمل ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ، این ایف سی اور دیگر مالی واجبات کی عدم ادائیگی، صوبے میں غیر اعلانیہ اور طویل بجلی لوڈشیڈنگ سمیت اہم عوامی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں صوبے اور بالخصوص ضم اضلاع کے عوام کیساتھ ناانصافی قرار دیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت ضم شدہ اضلاع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے این ایف سی، اے آئی پی اور موجودہ بجٹ کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے، جبکہ اب وہاں نئے ٹیکس نافذ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے انضمام کے وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ترقیاتی برابری حاصل ہونے تک وہاں نئے ٹیکس عائد نہیں کیے جائیں گے، تاہم وفاق نے اپنے اس وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور صوبائی حکومت اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم شدہ اضلاع کے عوام کے آئینی، قانونی اور مالی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔اجلاس میں شریک وفد نے بھی وفاقی حکومت کے فیصلوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے صوبے خیبرپختونخوا کے عوام کو بدستور غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ شدید گرمی کے موسم میں کم وولٹیج نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ وفد کے مطابق بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم اور مسلسل بندش عوام کے لیے ناقابل برداشت صورتحال اختیار کر چکی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ، مالی واجبات کی ادائیگی اور بجلی کی ترسیل سے متعلق تمام معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ بھرپور انداز میں اٹھائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کو باضابطہ مراسلہ بھی ارسال کیا جائے گا تاکہ صوبے کے تحفظات اور مطالبات واضح انداز میں پیش کیے جا سکیں۔وزیراعلی سہیل آفریدی نے صوبے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسئلے کے فوری حل کے لیے پیسکو، ٹیسکو اور ہیسکو کے اعلی حکام کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور ضم شدہ اضلاع کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی اور انتظامی اقدامات جاری رکھے گی۔قبل ازیں اسلام آباد میں جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے اڈیالہ جیل میں سہولیات مانگ لیں۔وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ملاقاتیوں کے انتظار گاہ بنائی جائے، عمران خان کی صحت جیل میں خراب ہوئی، عمران خان ناحق قید ہیں ان کے بھی حقوق ہیں ان کا علاج ذاتی معالجین سے کرایا جائے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی کے ویژن کے مطابق خیبر پختونخوا میں قیدیوں کو تمام سہولیات دی جا رہی ہیں، جمہوریت میں جلسے کی اجازت ہوتی ہے، یہاں جلسہ ہوتا ہے تو ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے، کم سن بچوں پر دہشت گردی کی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے







