پشاور جنرل ہسپتال کی تاریخی کامیابی, گردے کا پہلا ٹرانسپلانٹ

پشاور جنرل ہسپتال نے جدید طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا پہلا کامیاب گردے کا ٹرانسپلانٹ انجام دے دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کو نہ صرف ہسپتال بلکہ خیبرپختونخوا کے صحت کے شعبے میں ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو مقامی سطح پر عالمی معیار کے مطابق علاج کی سہولت میسر آئے گی اور انہیں علاج کے لیے دوسرے شہروں یا نجی مراکز کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ہسپتال ترجمان رومیسا احمد کے مطابق پہلا کامیاب گردے کا ٹرانسپلانٹ کنسلٹنٹ یورولوجسٹ و رینل ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر احمد نواز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کامیابی سے انجام دیا۔ اس کامیاب آپریشن کے بعد ہسپتال میں گردوں کی پیوندکاری کی باقاعدہ سروسز کا آغاز ہو گیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید مریض مستفید ہو سکیں گے۔اس تاریخی کامیابی کے موقع پر ہسپتال میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ملک جاوید اقبال، شعب یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر آصف ملک، ڈاکٹر احمد نواز، سینئر کنسلٹنٹس، طبی ماہرین، نرسنگ اسٹاف اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب میں ٹرانسپلانٹ پروگرام کے قیام اور اس کے کامیاب آغاز میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ملک جاوید اقبال نے کہا کہ پشاور جنرل ہسپتال کی تاریخ میں پہلا کامیاب گردے کا ٹرانسپلانٹ ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جدید طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے پیچھے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں، نرسوں، اینستھیزیا ٹیم، آپریشن تھیٹر کے عملے اور دیگر معاون شعبوں کی شبانہ روز محنت شامل ہے۔انہوں نے شعب یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر آصف ملک اور کنسلٹنٹ یورولوجسٹ و رینل ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر احمد نواز کو خصوصی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہسپتال کو یہ اعزاز دلایا ہے۔ ڈاکٹر ملک جاوید اقبال نے بالخصوص ڈاکٹر احمد نواز کو پہلا کامیاب گردے کا ٹرانسپلانٹ انجام دینے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کامیابی صوبے کے صحت کے نظام کے لیے باعثِ فخر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پشاور جنرل ہسپتال عوام کو جدید، معیاری اور خصوصی طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گردے کی پیوندکاری جیسی پیچیدہ طبی سہولت کی دستیابی سے نہ صرف مریضوں کا قیمتی وقت اور اخراجات بچیں گے بلکہ انہیں اپنے ہی صوبے میں محفوظ اور معیاری علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں گردے کی پیوندکاری کے پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی، جدید طبی آلات اور سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی خدمات سے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو مستفید کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پشاور جنرل ہسپتال میں گردے کے پہلے کامیاب ٹرانسپلانٹ کی کامیابی نہ صرف ادارے کی طبی استعداد کا مظہر ہے بلکہ یہ خیبرپختونخوا میں صحت کی جدید سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ اس پیش رفت سے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو امید کی نئی کرن ملے گی اور صوبے میں اعضا کی پیوندکاری کی سہولیات مزید مضبوط ہوں گ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed