گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کراچی میں رینجرز کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ گورنر نے کہا کہ الرٹ اور بہادر سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہندوستان کی سرپرستی کے حامل دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے اور حملہ آوروں کو انجام تک پہنچایا۔ ہماری بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امن، استحکام اور معاشی مرکز کراچی کو نشانہ بنانے کی ہر سازش ناکام ہوگی۔ دشمن عناصر دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کی ترقی، معاشی سرگرمیوں اور علاقائی روابط کو نقصان پہنچانے کے اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ پوری قوم اپنی بہادر افواج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ان کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی۔ گورنر نے اس موقع پر شہدا کے درجات بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی ‘ دوسری جانب سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی رہائش گاہ پر آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات سے متعلق اعلی سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا. گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب اجلاس میں شریک تھے. پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری ریاض سمیت آزاد کشمیر کی اہم سیاسی شخصیات نے بھی اجلاس میں شرکت کی جس میں میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے سیاسی کردار اور آئندہ حکمت عملی پر مشاورت کی گئی. اجلاس میں دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور ممکنہ سیاسی تعاون کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور آزاد کشمیر انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا. اعلی سطحی اجلاس میں آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار ، کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور مقامی تنظیموں سے رابطوں کے معاملات پر غور اور آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کو مثر سیاسی قوت بنانے کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا گیا. شرکا نے آئندہ انتخابات کے تناظر میں باہمی مشاورت اور رابطوں کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔







