پی آئی اے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر کمیٹی اراکین سیخ پا ہوگئے ، جس پر شیرِ نجکاری محمد علی کو فوری طور پر آج ہی کے اجلاس میں طلب کر لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر اراکینِ کمیٹی وفاقی بیوروکریسی اور ایف بی آر حکام پر سیخ پا ہو گئے۔کمیٹی نے شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے نجکاری کے عمل کے اس اہم معاملے پر مشیرِ نجکاری محمد علی کو فوری طور پر آج ہی کے اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں پی آئی اے کے لیے نئے جہازوں اور پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس استثنی کی تجویز زیرِ بحث آئی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ جولائی میں پی آئی اے کی ہینڈ اوور اور ٹیک اوور ہونے جا رہی ہے۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ابھی پی آئی اے کے پاس ایک سال کا ٹیکس استثنی موجود ہے لیکن اب وہ 15 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ مانگ رہے ہیں، اور ہم نے اس ٹیکس چھوٹ کو عالمی مالیاتی ادارے سے بھی کلیئر کروا لیا ہے







