اپنی شدید مخالف پی ٹی آئی کیساتھ کافی فاصلے مٹا چکا ہوں، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ میں اپنی شدید مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کافی فاصلے مٹا چکا ہوں، اگر حکومت اس وجہ سے ان کیمرہ اجلاس نہیں بلارہی کہ پی ٹی آئی والے احتجاج کریں گے تو ان کی گارنٹی میں دیتا ہوں،کشمیر کے مسئلے پر کشمیریوں کے مطالبات اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت ہو سکتی ہے، اس لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر کا بلیک آئوٹ کیا جا رہا ہے اور سرکاری ٹی وی پر اپوزیشن کا مقف پیش نہیں کیا جا رہاحالانکہ پارلیمنٹ میں تمام اراکین کے مساوی حقوق ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں، انہوں نے ووٹ نہیں مانگا مگر ہم نے سپورٹ کیا، وزیراعظم نے میثاق جمہوریت کی بات کی، تلخ تاریخ اس میثاق پر ختم ہوئی، میں یا بانی پی ٹی آئی اس میثاق جمہوریت کے دستخط یافتہ نہیں مگر اسے متفقہ میثاق سمجھتے ہیں، ہم نے طے کیا تھا کہ ایک دوسرے کی حکومت نہیں گرائیں گے، میں نے واضح کیا آج وہ جیل میں ہے باہر ہوگا ہاتھ کھلے ہوں گے تو پھر ہم سیاست بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کسی زمانے میں ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوا کرتے تھے، کہتے تھے 6 ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کردوں تو میرا نام شہباز شریف نہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اصلاحات کرتے مگر قرض بڑھ گئے، آج ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض ہے، ملک میں غربت 25 سے 29 فیصد پر چلی گئی ہے، آج غریب آدمی معمولی تنخواہ میں کیسے گزارا کر رہا ہے وہ اس سے پوچھیں۔آئینی امور پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بعض حلقوں میں 28 ویں ترمیم کا ذکر کیا جا رہا ہے، 18ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، آج صوبے کا حق حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا، خاص طور پر پیپلز پارٹی کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بجٹ روایتی انداز میں پیش کیا گیا ہے اور حکومت اسے کامیاب قرار دے رہی ہے، تاہم زمینی حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ قانون سازی کے باجود سود کے خاتمے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، اگر شریعت کورٹ کو موثر بنانے کی بات کرتے ہیں تو عمل نہیں ہوتا، اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک بھی سفارش پر یہاں بحث نہیں ہوئی، آپ نے جو کچھ 26ویں ترمیم میں تسلیم کیا وہ 27ویں میں واپس لے لیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر کشمیریوں کے مطالبات اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت ہو سکتی ہے، اس لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ان کے علما جمہوریت اور آئینی سیاست کی حمایت کی وجہ سے نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ صوبوں کے مالی حقوق اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق وعدوں پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed