عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، شفیع جان

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر عمران خان کو رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیا۔اپنے بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے قبل نہ اہل خانہ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے ذاتی معالجین کو رسائی دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شام کے بعد کسی بھی قیدی کو جیل سے باہر منتقل کرنا جیل مینوئل کی خلاف ورزی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق معلومات شفاف انداز میں عوام اور اہل خانہ کے سامنے کیوں نہیں لا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اہل خانہ کے مطالبے کے مطابق فوری طور پر الشفا آئی ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی فیملی سے ملاقات کو یقینی بنایا جائے۔شفیع جان نے کہا کہ عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقات ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے، جس سے مزید انکار قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ریلیف دیا گیا تھا، تاہم عمران خان کو ان کے بنیادی آئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان گزشتہ سات ماہ سے قید تنہائی میں ہیں اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے۔ شفیع جان کے مطابق عمران خان کو آنکھوں کے مکمل علاج کیلئے الشفاء آئی ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا اور بار بار پمز ہسپتال لے جایا جاتا ہے، جہاں ریٹینا اسپیشلسٹ موجود نہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر عوام کے سامنے لائے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed