پشاور ہائیکورٹ نے محفوظ بی بی قتل کیس کی تفتیش میں مبینہ غفلت کے الزام میںماتحت عدالت کی جانب سے سزا پانے والے پولیس انسپکٹر ہدایت اللہ خان کی 10 سال قید کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔کیس کی سماعت جسٹس ارشدعلی اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دورکنی بنچ نے کی۔ سزایافتہ پولیس کی جانب سے کیس کی پیروی شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے کی جبکہ پولیس کے لیگل ایڈوائزر یوسف خان ایڈووکیٹ بھی کیس کی سماعت میں موجود تھے۔ استغاثہ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج پشاورامتیاز علی نے انسپکٹر ہدایت اللہ خان کو محفوظ بی بی قتل کیس میں شواہد درست طریقے سے اکٹھے نہ کرنے اور کرائم ویڈیوز کا فرانزک معائنہ نہ کرانے کی بنیاد پر 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ مذکورہ فیصلے کے خلاف انسپکٹر ہدایت اللہ خان نے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔دوران سماعت سزا پانے والے پولیس آفیسرکے وکیل نے عدالت کو تبایاکہ ماتحت عدالت کی کارروائی میں متعدد قانونی اور آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے جبکہ مقدمے کی سماعت عجلت میں مکمل کی گئی اور ملزم کو مناسب قانونی معاونت کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا، لہذا انکے موکل کی سزا کو معطل کرکے ضمانت پر رہاکیاجائے ، عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی سز اکو معطل کرکے پولیس آفیسر کو ضمانت پر رہاکرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ۔







