حسیب اللہ خان
سماجی کارکن، نوجوان وکیل

کچھ شخصیات اپنے کام سے پہچانی جاتی ہیں اور کچھ اپنے کام کو ایک نئی پہچان دے دیتی ہیں۔ صحافت اور کھیلوں کی دنیا میں جب بھی پشاور، خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر ابھرتا ہے، تو ایک نام خود بخود ذہن کے پردے پر نمایاں ہو جاتا ہے اور وہ نام ہے امجد عزیز ملک
امجد عزیز ملک صرف ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ یہ صحافت، کھیلوں کی انتظامیہ اور ثقافتی سفارت کاری کا ایک ایسا تسلسل ہے جس نے دہائیوں کی انتھک محنت سے اپنا لوہا ملوایا ہے۔ پشاور کی مٹی سے اٹھنے والے اس نامور صحافی نے نہ صرف ملکی سطح پر اپنا مقام بنایا بلکہ عالمی ایوانوں میں بھی پاکستان کا پرچم بلند کیا۔امجد عزیز ملک نے کھیلوں کی صحافت کو اس وقت اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ‘جب اس شعبے میں مواقع محدود تھے۔ انہوں نے قلم کو امانت سمجھا اور کھیلوں کے میدانوں کی رونقوں، کھلاڑیوں کی محنت اور اس شعبے کے مسائل کو ہمیشہ اپنے کالموں اور خبروں کے ذریعے اجاگر کیا۔ ان کی اسی لگن نے انہیں پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کی صدارت اور ایشین اسپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل جیسے معتبر عہدوں تک پہنچایا۔ان کے کیریئر کا ایک تاریخی اور یادگار لمحہ وہ تھا جب انہیں بین الاقوامی اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن کی جانب سے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں منعقدہ کانگریس کے دوران لائف ٹائم آنریری ممبرمنتخب کیا گیا۔ یہ اعزاز پانے والے وہ پہلے پاکستانی بنے، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک انتہائی فخر کا مقام ہے۔امجد عزیز ملک کی خدمات صرف کھیلوں کی حد تک محدود نہیں ہیں۔ پشاور میں قائم ثقافتی مرکز چائنا ونڈو کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے انہوں نے پاک چین دوستی اور ثقافتی تبادلوں کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔ یہ مرکز پشاور کے شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک ایسا دریچہ بن چکا ہے جہاں وہ علم، ثقافت اور بین الاقوامی روابط سے روشناس ہو رہے ہیں۔ یہ امجد عزیز ملک کی پشاور سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اپنے شہر کے عوام کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا اور مثبت کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔کسی بھی بڑے انسان کی اصل خوبصورتی اس کی عاجزی ہوتی ہے۔ امجد عزیز ملک نے اتنی کامیابیاں سمیٹنے اور دنیا بھر کا سفر کرنے کے باوجود اپنی جڑیں ہمیشہ پشاور سے جوڑے رکھیں۔ وہ نئے آنے والے صحافیوں کے لیے ایک شفیق استاد اور رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں، جو ہمیشہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیںامجد عزیز ملک صاحب جیسے لوگ کسی بھی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر انسان میں سچی لگن اور محنت کا جذبہ ہو، تو پشاور کی گلیوں سے نکل کر دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں پاکستان کا نام روشن کیا جا سکتا ہے۔ ان کی خدمات کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے، اور یقینا وہ ہماری نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔







