مودی سرکار میں مقبوضہ کشمیر کے معصوم بچے ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اور بھارتی ظلم و تشدد کا سب سے بڑا نشانہ بن رہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے معصوم بچے بھارتی حکومت کے ظلم اور تشدد کا سب سے بڑا نشانہ بنے ہوئے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں مقبوضہ کشمیر کے بچے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری فوجی کارروائیوں کے اثرات کم سن بچوں پر بھی گہرے مرتب ہوئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے 96 ہزار 497 کشمیریوں میں 933 بچے بھی شامل ہیں، بھارتی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد کشمیری بچے یتیم ہو چکے ہیں، جس کے باعث ہزاروں خاندان شدید متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2010 کے بعد بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کے استعمال سے سیکڑوں کشمیری بچے بینائی سے محروم ہو گئے، متعدد کم عمر بچے بھارتی فوج کے مبینہ جعلی مقابلوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بہت سے بچوں کو بھارتی کالے قوانین کے تحت گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔آزادی پسند رہنمائوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم کا شکار کم سن بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے بھی متعدد بار مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مبینہ ظلم اور قتل عام سے متعلق رپورٹس جاری کر چکے ہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بچوں پر تشدد و ظلم مودی حکومت اور بھارتی فوج کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کی وجہ سے عالمی قوانین کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے معصوم بچے بھارتی مظالم کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔







