پیٹرولیم لیوی کم ،فنی تربیت پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے،ضیاء الحق سرحدی

پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدراورسرحدچیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹری کے ممبر ایگزیکٹو ضیا ء ا لحق سر حد ی(ستارہ امتیاز)نے مالی سال 2026-27کے لیے شیڈ و بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ کو متوازن ، کاروبار دوست اور عوامی ریلیف پر مبنی بنایا جائے تاکہ معیشت کو استحکام، صنعت کو سہارا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔اس وقت موجودہ معاشی حالات میں کاروباری طبقہ مہنگی توانائی، بلند شرح سود، بھاری ٹیکسوں اور مہنگائی کے شدید دبا کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے ایسا بجٹ ناگزیر ہے جو صنعت ،تجارت اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ یہ بات انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17ہزار 573ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ بجٹ خسارہ 6ہزار 501ارب روپے رہا۔انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال میں بجٹ کا مجموعی حجم تقریبا اسی سطح پر رکھا جائے تا کہ مالی نظم وضبط برقرار رہے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ہمارے صوبہ خیبرپختونخوا کو ہوا ہے۔ہمارے صوبے کو خصوصی مراعات کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ جو بارڈرز منسلک ہیں ان سے مذاکرات کرکے اپنی سیکیورٹی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا فوری حل کیا جائے۔دہشت گردی کے باعث خیبر پختونخوا کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات اور معاشی بحران ناقابلِ تلافی ہیں، اور اس دیرینہ مسئلے کے پائیدار حل کے لیے صوبے کو خصوصی اقتصادی پیکجز اور افغان بارڈر پر ٹھوس سیکیورٹی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، صنعتوں کے فروغ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی مالیاتی پیکج کا اعلان کیا جانا چاہیے۔افغانستان کے ساتھ متصل بارڈرز(خصوصا طورخم اور انگور اڈہ)پر سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ اسمگلنگ کی روک تھام اور تجارت کے فروغ کے لیے محفوظ ماحول بن سکے۔ افغان حکومت کے ساتھ مل کر ایسی موثر سرحدی پالیسی تشکیل دی جائے جس سے دونوں ممالک کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور مقامی معیشت بھی متاثر نہ ہو۔ ضیا الحق سرحدی جو کہ فرنٹیئر کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA)خیبرپختونخوا کے صدر بھی ہیں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14ہزار 131ارب روپے مقرر کیا گیا تھا ، تا ہم ہماری رائے ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس ہدف میں صرف 4سے 5فیصد اضافہ کیا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدگی اختیارکرئے، ملک بھر میں لاکھوں گاڑیوں کو ماہانہ سینکڑوں لیٹر فی گاڑی دیئے جانے والا پیٹرول بند کرئے، مفت بجلی روکے،ذخیرہ اندوزوں کو الٹا لٹکایا جائے، عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجائے تعیشات پرٹیکس لگایا جائے، روٹی اور ادویات کو سستا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed