بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے جیل میں مبینہ ملاقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی افواہیں جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ان پر 26 نومبر کے احتجاج کا پیغام عوام تک پہنچانے کا الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ احتجاج کا اعلان خود عمران خان نے جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کے وکیل نے عدالت میں مثر جرح کی، تاہم اگر انہیں سزا دی جاتی ہے تو وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ کیس کا جلد فیصلہ ہو، اسی لیے عدالت سے جلد سماعت کی درخواست کی گئی ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ سابق آرمی چیف بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کے لیے گئے تھے، لیکن ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے انہوں نے بیرسٹر گوہر علی خان سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے اس خبر کی تردید کی۔بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے مزید کہا کہ عمران خان نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک سے باہر جانے کی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کیا، اس لیے اب بھی ایسی کسی بات کا امکان نہیں۔







