پشاورہائیکورٹ نے لارجر بنچ کے فیصلے اورہدایات پر عملدرآمد سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر قراردیاہے کہ حکومتی ادارے عدالتی فیصلے پر من وعن عملدرآمدکرنے میں ناکام نظرآرہی ہے اور اس ضمن میں 4ماہ گزرنے کے بعد بھی کوئی پراگریس نہ ہوسکی ۔انتظامیہ سنجیدگی اورکمٹمنٹ دکھانے میں ناکام نظرآئی ہے ، سرکاری اداروں اور عہدوں پر بیٹھے افسران اور دیگر افراد کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کریں اور اداروں کو کمزور کریں، اس لیے اگر موثر اور نتیجہ خیز اقدامات نہ اٹھائے گئے تو عدالت سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگی۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے توہین عدالت کی درخواست پر13صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کردیا۔ دوران سماعت چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اکرام اللہ خان ،آئی جی پولیس ذوالفقار حمید، مختلف محکموں کے سیکرٹریز، ڈی جی پراسیکیوشن رفیق خان ، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نعمان الحق کاکاخیل ودیگر بھی پیش ہوئے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے کریمنل جسٹس سسٹم سے متعلق ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلوں اور ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی جس پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کیا گیا کہ عدالتی احکامات سے متعلق کیااقدامات کیے گئے ہیں۔ اس دوران چیف سیکرٹری کی جانب سے ضمنی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں قراردیا گیا کہ ان اقدامات اور ہدایات پر عملدرآمد کیلئے ایگزیکیٹیو اور مقننہ کی شمولیت ، اقدامات اور ایکشن ضروری ہے اور اس ضمن میں تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کوچیف سیکرٹری کی منظوری کے بعد گائیڈلائنز بھی جاری کیے گئے ۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق 9مارچ کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فرانزک سائنس لیبارٹری پشاور کا قیام ایجنڈے میں شامل تھا جس کی منظوری دی گئی اور نیسپاک نے اس ضمن میں پی سی ون بھی جمع کیاجس کے تحت اس کی لاگت 20ارب بتائی گئی۔ اسی طرح اے ڈی آر کے سلسلے میں ترامیم منظورکیے گئے اور اس ضمن میں ڈرافٹ بل صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجائے گا







