رپورٹ : شعیب جمیل
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور ممتاز قانون دان معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے تحفظ، عدلیہ کی آزادی کے استحکام اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو انصاف کی فراہمی کیلئے جسٹس فار عمران خان موومنٹ کا آغاز کیا گیا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں ملک کو ایک مضبوط، آزاد اور خودمختار عدالتی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی جاسکتی ہے اور بعد میں اسے جوڈیشل قتل قراردیاجاسکتاہے تو اس میں کوئی شک نہیںکہ عمران خان کو بھی جیل میں قتل کیاجاسکتاہے لہذا عمران خان کی جان کو خطرہ ہے ۔وکلا برادری کو متحد ہوکر آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ میں جسٹس فار عمران خان موومنٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں انصاف لائرزفورم کے بانی رہنماء اور سینئر قان دان شاداب جعفری ایڈووکیٹ اور آئی ایل ایف خیبر پختونخوا کے صدر علی زمان ایڈووکیٹ سمیت دیگر رہنمائوں، وکلا، سیاسی کارکنوں نے شرکت کی ۔معظم بٹ ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ وکلا برادری نے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے اور جب بھی ملک میں قانون اور انصاف کو چیلنجز درپیش ہوئے، وکلا ء صف اول میں کھڑے نظر آئے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر شہری، خواہ وہ عام آدمی ہو یا ملک کا بڑا سیاسی رہنما، قانون کے مطابق شفاف اور غیرجانبدارانہ انصاف حاصل کرے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انصاف لائرز فورم کے بانی رہنما اور سینئر قانون دان شاداب جعفری ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی کیلئے ہم کو ملکر کام کرناہوگا، ملک میں آزادی عدلیہ کے تصوریر کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے ، وکلاء ہر مشکل وقت میں سڑکوں پر نکلتے ہیں،پاکستانی لیڈرز کی تضحیک ہمیشہ سے کیجارہی ہے ، کبھی کسی کو پھانسی تو کسی کو ہتھکڑیاں لگاکر پابند سلاحل کردیاگیاہے ، آئین کی آرٹیکل 14پر عمل درآمد کرکے ہر شہری کی عزت اور وقار کو برقرار رکھا جائے ۔ ان کا کہناتھاکہ ہمارے وکلاء کا ایک مقصدہے کہ پاکستان میں خود مختار اور مضبوط عدلیہ کی جدوجہد کرنے کیلئے سب وکلاء کو متحدہوناپڑے گااور کسی بھی سازش کا حصہ نہیںبنے گے کیونکہ آزاد اور مضبوط عدلیہ ہی ہمارے حقوق کی اصل ضامن ہے ، اگر تاریخ کو دیکھے تو دنیا میں پہلی بار ریاست مدینہ کی بنیاد ہی رول آ ف لاء پر رکھی گئی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کسی بھی ایسے عمل یا سازش کا حصہ نہیں بنیں گے جو عدلیہ کی آزادی یا آئینی اداروں کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلا ملک میں آئین کی بالادستی اور عدالتی آزادی کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انصاف لائرز فورم خیبرپختونخوا کے صدر علی زمان ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ پشاور نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ بحالی تحریک کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی پشاور کے وکلا اور سیاسی کارکنوں کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا نے ہر دور میں آمریت اور غیرآئینی اقدامات کے خلاف مزاحمت کی اور اصولی موقف اختیار کیا۔علی زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملک میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کی وجہ سے عدلیہ کو مفلوج کردیاگیاہے تاہم وکلا برادری نے ماضی میں بھی جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کیلئے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے کیلئے ادارے آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔تقریب کے اختتام پر وکلا اور شرکا نے آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کے مئوثر نظام کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ جسٹس فار عمران خان موومنٹ کے مقاصد اور آئندہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔







